کائنات کا آغاز
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک ایسی قریبی ہستی کی ضرورت ہے جس کے آگے وہ اپنا سر جھکا دے۔ جب وہ تکلیف میں ہو تو کسی حاجت روا کے سامنے ہاتھ اٹھا سکے۔ جب اسے خوشی ہو تو کسی محسن کے سامنے سجدہ شکر بجالائے۔ جس طرح سمندر میں ڈوبنے والا ایک شخص کشتی کا سہارا چاہتا ہے، اسی طرح اس وسیع و عریض کائنات میں انسان کو ایک مضبوط رسی کی ضرورت ہے جسے وہ تھام سکے۔ کوئی بڑی سے بڑی شخصیت اس کمی سے خالی نہیں ہو سکتی۔ اگر یہ خلا ذاتِ خداوندی کے ذریعے پُر کیا جائے تو یہ توحید ہے اور اگراس کو چھوڑ کر کسی دوسری ہستی کا سہارا ڈھونڈا جائے تو یہ شرک ہے۔ تاریخ کے ہر دور میں انسان ان دو میں سے کسی نہ کسی سہارے کو اختیار کرنے پر مجبور رہا ہے۔ جو لوگ توحید کے پرستار ہیں ان کا سہارا قدیم ترین زمانے سے ایک خدا تھا۔ اور اب بھی صرف خدا ہے، مگر شرک کے پرستاروں کے قبلے بدلتے رہے ہیں۔ پہلے زمانے کا انسان اور موجودہ دور میں بھی بہت سے لوگ فضا کے روشن ستاروں سے لے کر درخت اور پتھر تک بے شمار چیزوں کی پرستش کرتے رہے ہیں اور اب موجودہ زمانے میں قوم، وطن، مادی ترقی اور سیاسی برتری کے جذبات نے اس کی جگہ لے لی ہے۔ انسان کو اب بھی ایک مرکزِ محبت کی ضرورت ہے۔ وہ اب بھی اپنی دوڑ دھوپ کے لیے کوئی منتہا چاہتا ہے۔ اس کو اب بھی اس کی تڑپ ہے کہ کسی کی یاد سے دل کو گرمائے اور زندگی کی توانائی حاصل کرے۔ یہ نئے نئے بت دراصل اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے گھڑے گئے ہیں، مگر جس طرح پتھر کا بت کوئی واقعی سہارا نہ تھا جو انسان کے کسی کام آ سکتا، اسی طرح موجودہ زمانے کے یہ چمکدار بت بھی نہایت کمزور ہیں جو کسی قوم کو حقیقی طاقت نہیں دے سکتے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader