کائنات کا آغاز
Urdu book, p. 68
By Maulana Wahiduddin Khan
جرمنی نے قومیت کو اپنا بت بنایا مگر یہ بت اس کے کام نہ آسکا اور دوسری جنگِ جَن٘گ نے اس کو فنا کر دیا، اٹلی اور جاپان وطن کے بت کو لے کر اٹھے مگر یہ بت خود ان کے وطن کو ان کے لیے قبرستان بننے سے نہ روک سکا۔ برطانیہ اور فرانس نے مادی اسباب کو بت بنایا مگر وہ ان کے کام نہ آیا اور جس سلطنت میں آفتاب غروب نہیں ہوتا تھا اس کا آفتاب غروب ہو کر رہا۔ قرآن ہم کو بتاتا ہے کہ اس کائنات میں طاقت کا اصل خزانہ کہاں ہے وہ ہمارے ہاتھ میں اس مضبوط رسی کا سراد دیتا ہے جس کو ٹوٹنا نہیں ہے اور جس کے سوادر حقیقت اس دنیا میں کوئی سہارا نہیں ہے۔ قرآن ہم کو بتاتا ہے کہ اس کائنات میں حقیقی سہارا صرف ایک خدا کا ہے، اسی کے ذریعہ دلوں کو سکون ملتا ہے اسی کے ذریعہ زندگی کی حرارت حاصل ہوتی ہے، اس کا تعلق ہی وہ سب سے مضبوط رسی ہے جو مختلف انسانوں کو باہم جوڑتی ہے، وہی نازک مواقع پر ہمارا دستگیر اور مشکل حالات میں ہمارا مددگار ہے۔ اسی کے ہاتھ میں ساری طاقت ہے، عزت اس قوم کے لیے ہے جو اس کا سہارا پکڑے اور جو اس کو چھوڑ دے اس کے لیے ذلّت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ یہ علم دراصل تمام خزانوں کی کنجی ہے جس کو یہ ملا اسے سب کچھ مل گیا اور جو اس سے محروم رہا وہ ہر چیز سے محروم رہا۔ ہم ان سائنس دانوں کو بڑی اہمیت دیتے ہیں، جنہوں نے بجلی اور بھاپ کی قوتوں کا انکشاف کیا جس سے انسانی تمدن کو ترقی کے مواقع ملے۔ مگر یہ کتاب جس حقیقت کا انکشاف کرتی ہے اس کی عظمت کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا، یہ صرف مشینوں کا علم نہیں بلکہ اس انسان کا علم ہے جس کے لیے ساری مشینیں بنی ہیں۔ اس کے ذریعہ ہم انسان کو سمجھتے ہیں، اس کے ذریعہ انسان اپنی زندگی کو کامیاب بنانے کا راز معلوم کرتا ہے، اور یہی تاریخ کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader