کائنات کا آغاز
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کی محبوب ترین کتاب کوئی اور ہو تو اس کا محبوب بھی وہی شخص ہوگا جس کی کتاب اس نے پسند کی ہے۔ خدا اس کا محبوب نہیں ہو سکتا۔ جس طرح خدا کو ہم قرآن کے سوا کہیں اور نہیں پا سکتے اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ خدا کو پانے کے بعد قرآن کے سوا کوئی اور چیز ہماری محبوب ترین بن سکے۔ قرآن کا مطالعہ کرنے کی ضرورت صرف اس لیے نہیں ہے کہ اس کے ذریعہ سے آدمی اپنے رب کے احکام معلوم کرتا ہے بلکہ دنیا کی زندگی میں خدا سے قریب ہونے اور بندگی کی راہ پر انسان کو استوار رکھنے کا دار ومدار بھی اسی پر ہے۔ قرآن میں آدمی اپنے رب سے ملاقات کرتا ہے، قرآن میں اس وعدوں اور بشارتوں کو دیکھتا ہے، اپنے آقا اور مالک کے بارے میں انسان کے فطری احساسات جو اس کے اندر غیر شعوری طور پر امنڈتے ہیں، وہ دیکھتا ہے کہ قرآن میں ان کو مصوّر کر دیا گیا ہے۔ جب انسان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اتھاہ کائنات کے اندر وہ ایک بے سہارا وجود ہے تو قرآن اس کے لیے منزل کا نشان بن کر ظاہر ہوتا ہے۔ قرآن آدمی کے لیے وہ یقین مہیا کرتا ہے جس کے مطابق آدمی دنیا میں اپنا مقام متعین کر سکے۔ قرآن کو محض پڑھ لینا کافی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ عشق کی ضرورت ہے۔ قرآن سے جب تک غیر معمولی شغف نہ ہو یہ سارے فوائد حاصل نہیں ہو سکتے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو حدیث میں "تعاہد" کے لفظ سے ظاہر کیا گیا ہے: تَعَاهُدُوا الْقُرْآنَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5033)۔ یعنی قرآن کی حفاظت کرو۔ قرآن سے یہ دل چسپی اور اس کی عظمت کا احساس بالواسطہ پیدا نہیں ہو سکتا۔ کسی مفسر یا ادیب کی زبان سے قرآن کے مضامین سن کر آدمی اس مفسر یا ادیب کا معتقد تو ہو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader