کائنات کا آغاز
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
سکتا ہے۔ مگر اس طرح قرآن سے حقیقی لگاؤ پیدا ہونا ممکن نہیں۔ قرآن سے تعلق صرف اسی وقت پیدا ہو سکتا ہے جب کہ خود قرآن کو پڑھا جائے اور اس کے اندر جو کچھ ہے اس کو براہ راست اس کے اپنے الفاظ کے ذریعہ سے ذہن میں اتارا جائے یہ محض خیالی بات نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک اہم نفسیاتی حقیقت ہے۔ کسی چیز سے آدمی اسی حیثیت سے متاثر ہوتا ہے جس حیثیت سے وہ اس سے ذاتی طور پر متعارف ہوا ہو۔ مثلاً ہم کہہ سکتے ہیں کہ روئی اور پتھر کا نرم اور سخت ہونا محض اضافی ہے۔ حقیقتادنوں بالکل ایک ہیں کیونکہ اپنے آخری تجزیے میں دونوں ایک ہی طرح کے برقی ذرات کا مجموعہ ہیں۔ مگر یہ ایک خالص علمی بات ہے، حقیقی دنیا میں یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی شخص روئی کو نرم اور پتھر کو سخت نہ سمجھے۔ تاثر کبھی خارجی علم کا پابند نہیں ہوتا بلکہ وہ صرف اس علم کا پابند ہوتا ہے جو اسے ذاتی طور پر حاصل ہوا ہے۔ اس مثال کی روشنی میں مسئلے کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ جب ہم قرآن کو خود اس کے لفظوں میں سمجھے بغیر کسی دوسرے شخص کے مضامین اور اس کی تشریحات کے ذریعہ اس کا علم حاصل کرتے ہیں تو قدرتی طور پر جو صورتِ حال پیدا ہوتی ہے وہ یہ کہ ایک طرف قرآن کی عبارت ہوتی ہے جس کا کوئی مطلب ہماری سمجھ میں نہیں آتا یا اگر سمجھ میں آتا ہے تو بہت معمولی سا۔ اور دوسری طرف ایک مصنف کی تحریر ہوتی ہے جو ہمارے لیے ایک قابلِ فہم زبان میں ہونے کی وجہ سے خود اپنے آپ کو واضح کرتی ہے۔ خدا کا کلام سمجھ میں نہیں آتا، مگر مصنف کا کلام خوب سمجھ میں آتا ہے۔ خدا کی بات میں کوئی خاص معنویت دکھائی نہیں دیتی اور مصنف کا کلام نہایت با معنی نظر آتا ہے۔ خدا کا کلام پڑھے تو وہ دل کے اوپر اپنا کوئی اثر نہیں ڈالتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader