کائنات کا آغاز
Urdu book, p. 72
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر مصنّف کی عبارت دیکھئے تو رگ رگ میں پیوست ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہ دو مختلف عبارتوں کا دو بالکل مختلف حیثیتوں سے تعارف ہے جو انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ آدمی کا خارجی علم کہتا ہے کہ کلام برتر وہ ہے جو سمجھ میں نہیں آتا یا اگر سمجھ میں آتا ہے تو اس کے اندر کوئی بڑی بات نہیں ہے اور حقیقی تعارف یہ محسوس کرتا ہے کہ کلام برتر وہ ہے جو اپنی حیثیت کو خود تمہارے اوپر واضح کر رہا ہے۔ اس صورتِ حال کا فطری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قرآن کے بجائے کسی مصنّف کی عظمت اس کے دل پر نقش ہو جاتی ہے۔ روایتی ایمان کی بنا پر وہ اپنی زبان سے یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ وہ مصنّف کی تحریروں کو قرآن پر ترجیح دیتا ہے مگر اس کا اندرونی احساس اس قسم کا ہو جاتا ہے گویا اصل واقعہ یہی ہے۔ وہ غیر شعوری طور پر خدا کے سوا کسی اور شخصیت کی پرستش میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ ایک عظیم فتنہ ہے جس کا خطرہ ہر اس شخص کو لاحق ہے جو خدا کے پیغام کو اس کی اپنی زبان کے بجائے کسی دوسرے کی زبان سے سننا چاہتا ہو، جو قرآن کا براہِ راست مطالعہ کرنے کے بجائے اس کے متعلق دوسرے لوگوں کی تحریروں کو پڑھ لینا کافی سمجھتا ہو، جو قرآن کو خود قرآن سے سمجھنے کے بجائے قرآن کو مفسّروں اور ادیبوں کی تحریروں سے سمجھنا چاہتا ہو، جس طرح ہم اپنے پیٹ کی بھوک اسی وقت بجھا سکتے ہیں جب کہ خود کھائیں اور اپنے اندر ہضم کریں ٹھیک اسی طرح ہمارا ایمان بھی اسی وقت صحیح اور مکمل ہو سکتا ہے، جب کہ ہم نے اس کے اصل ماخذ سے خود حاصل کیا ہو۔ کسی دوسرے کے واسطے سے ہم اس تک ٹھیک ٹھیک نہیں پہنچ سکتے۔ قرآن کے سلسلے میں یہ ایک اہم سوال ہے کہ قرآن کا مطالعہ کس طرح کیا جائے کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader