Urdu book · عظمتِ قرآن

کائنات کا آغاز

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ اپنی صحیح شکل میں ہمارے ذہنوں میں اتر جائے اور ہماری زندگی میں حقیقی طور پر شامل ہو سکے ۔ اس کے لیے سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ قرآن کا مطالعہ خود قرآن کی روشنی میں کیا جائے نہ کہ کسی اور چیز کی روشنی میں ، یہ مطالعہ لازمی طور پر قرآن کو سمجھنے کے لیے ہونا چاہیے نہ کہ اپنی پہلے سے کسی طے کی ہوئی بات کو اس سے نکالنے کے لیے ۔ جب بھی کوئی شخص متاثر ذہن کے ساتھ قرآن کا مطالعہ کرے گا وہ قرآن کو صحیح طور پر اخذ نہیں کر سکتا ، ایسا آدمی قرآن کے آئینے میں اپنی بات دیکھے گا ، نہ کہ قرآن کی بات کو ۔ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ انسان کے ذہن میں کسی مطالعہ کے نتائج ہمیشہ اس تصور کے مطابق مرتب ہوتے ہیں جو پہلے سے اس کے ذہن میں موجود ہو۔ انسان کے لیے یہ نا ممکن ہے کہ وہ چیزوں کو صرف اس حیثیت سے دیکھے جیسے کہ وہ فی الواقع ہوں ۔ اکثر حالات میں وہ مجبور ہوتا ہے کہ چیزوں کو اس حیثیت سے دیکھے جیسا کہ اس کا ذہن اسے دیکھنا چاہتا ہے ۔ اس طرح جب کوئی شخص ایک خاص ذہن لے کر قرآن کا مطالعہ کرتا ہے تو عملاً یہ ہوتا ہے کہ وہ قرآن کی بعض باتوں کو تولے لیتا ہے جو اس کے ذہن کے چوکھٹے میں بیٹھ سکتی ہوں اور باقی تمام باتوں کو چھوڑتا چلا جاتا ہے ۔ اس طرح وہ سارا قرآن پڑھ لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس نے قرآن کو پا لیا ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ قرآن سے بالکل بے خبر ہوتا ہے ۔ اس نے جو چیز پائی ہے وہ وہی ہے جو اس کے ذہن میں پہلے سے موجود تھی اور جس کی تائید میں اتفاق سے قرآن کی بعض آیتیں بھی اسے ہاتھ آ گئیں۔ ایسے آدمی کی مثال بالکل اس تعلیم یافتہ نوجوان کی سی ہے جو اپنی بے کاری سے پریشان ہو اور صرف " ضرورتِ ملازمت " کے اشتہارات دیکھنے کے لیے اخبار کا مطالعہ کرتا ہو ۔ یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page