کائنات کا آغاز
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
گی ۔ کیونکہ وہ آپ کے ذہنی سانچے کے ساتھ مطابقت نہیں رکتیں اور کچھ چیزیں ایسی ہوں گی جو آپ کو پسند آجائیں گی ۔ کیونکہ وہ آپ کے ذہنی سانچے میں بیٹھ رہی ہیں۔ اس طرح آپ قرآن کی کچھ باتوں کو لے لیں گے اور اس کی بہت سی باتوں کو چھوڑ دیں گے۔ آپ اپنے طور پر یہ سمجھتے رہیں گے کہ آپ نے قرآن کو پا لیا ہے۔ مگر جو حقیقت ہوگی وہ یہ کہ آپ قرآن سے محروم ہوں گے۔ آپ اسلام کے نام پر خود اسلام کو چھوڑ دیں گے۔ آپ قرآن کے حوالے سے گفتگو کریں گے۔ مگر حقیقتاً آپ کی گفتگو کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ اس طرح مطالعہ کے وقت انسان کا ذہنی تصور جس درجے میں اسلام سے ہٹا ہوا ہو ۔ اسی کے بقد راس کے مطالعہ قرآن میں نقص ہو جاتا ہے۔ آپ کہیں گے کہ جب صورتِ حال یہ ہے تو کسی کے بارے میں بھی یقین نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا مطالعہ اس کو صحیح نتائج تک پہنچا سکے گا۔ کیونکہ قرآن کے مطالعے کے بعد ہی تو قرآن کے مطابق کسی کا ذہن بن سکتا ہے۔ پھر ایک شخص جو ابھی قرآن کا مطالعہ کرنے جا رہا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ پہلی بار ہر شخص کی یہی حیثیت ہوتی ہے تو وہ کس طرح قرآن کے مطابق اپنے ذہن کو بنا سکتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ میرا مطلب یہ نہیں کہ مطالعہ کرنے سے پہلے آدمی کا ذہن قرآن کے مطابق بن چکا ہو۔ ظاہر ہے کہ یہ بات نا ممکن ہے۔ میرا مطلب صرف یہ ہے کہ اس کے اندر اس بات کی صلاحیت ہونی چاہیے کہ قرآن سے جو کچھ اسے ملے وہ اس کو بے چون و چرا قبول کر لے۔ علماء نے یہ کہا کہ قرآن سے صحیح طور پر استفادہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اس کے لیے خدا سے دعا کرے۔ اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ آدمی کے اندر ہدایت کو قبول

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader