کائنات کا آغاز
Urdu book, p. 76
By Maulana Wahiduddin Khan
کرنے کی آمادگی ہونی چاہئے۔ دعا کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کچھ مخصوص الفاظ اپنی زبان سے ادا کر کے تلاوت کا آغاز کیا جائے۔ بلکہ یہ دعا دراصل دل کی اس تڑپ کا اظہار ہے کہ بندہ ہدایت قبول کرنے کے لیے بے تاب ہے، وہ حقیقت کی تلاش میں سرگرداں ہے، اس کی طلب پوری طرح ابھری ہوئی ہے، وہ ہمہ تن طالب حق بن کر خدا سے درخواست کر رہا ہے کہ وہ اسے روشنی دے۔ وہ اس کے اندر صحیح خیالات کا فیضان کرے، وہ قرآن کے مطالب کو اس کے لیے کھول دے تاکہ وہ اسے جذب کر سکے۔ یہی جذبہ طلب دراصل وہ چیز ہے جو آدمی کو قبول حق تک لے جاتی ہے اور جس نے اپنی فطری طلب پر خواہشات کے پردے ڈال لیے ہوں اسے کبھی حق کو قبول کرنے کی توفیق نہیں مل سکتی۔ اب سوال یہ ہے کہ قرآن کا مطالعہ کرنے کے لیے ہم کو اور کون سے علوم جاننے کی ضرورت ہے۔ اس گفتگو کو میں دو حصوں میں تقسیم کر دوں گا۔ قرآن کے طالب علم دو قسم کے ہو سکتے ہیں۔ ایک وہ جو زیادہ مطالعہ کرنے کے خواہشمند ہوں اور دوسرے وہ جو اپنے حالات کے تحت اس کو صرف سادہ طریقے پر پڑھنا چاہتے ہوں۔ دوسری قسم کے لوگوں کے لیے صرف ایک چیز سیکھ لینا کافی ہے، یعنی قرآن کی زبان۔ اور پہلی قسم کے لوگوں کو اس کے علاوہ مزید چار علوم میں واقفیت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح دونوں گروہ کے لحاظ سے یہ کل پانچ متعلق علوم ہوئے جو کہ حسب ذیل ہیں: 1۔ عربی زبان 2۔ حدیث اور تفسیر 3۔ سائنس یعنی علوم فطرت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader