Urdu book · عظمتِ قرآن

کائنات کا آغاز

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

کے ترجمے سے اس کا مطلب تو شاید سمجھ جائے مگر اس سے کوئی اثر قبول نہیں کر سکتا۔ قرآن کی عبارتوں میں بے پناہ روانی ہے، اس کے اندر حیرت انگیز طور پر معانی کو لفظوں کی صورت میں مجسم کر دیا گیا ہے۔ قرآن میں کہیں یقین پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، کہیں خدا کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے، کہیں اعمالِ خیر پر ابھارا گیا ہے، کہیں اپنے دعوے کے حق میں انسان کی فطرت اور کائنات کی شہادتوں سے استدلال کیا گیا ہے، کہیں انسان کی کامیابی و ناکامی کا فلسفہ بیان کیا گیا ہے۔ مگر یہ سب کچھ صرف بیانِ واقعہ کے طور پر نہیں ہے بلکہ ایسے بلیغ اور موثر انداز میں ہے کہ ہر جگہ آدمی پر وہی کیفیت طاری ہوتی ہے جو کہ دراصل وہاں مقصود ہے۔ قرآن کا انداز بیان ایسا مسحور کن ہے کہ آدمی اس کو صرف پڑھتا نہیں بلکہ اس میں غرق ہو جاتا ہے وہ اس کو صرف پڑھ کر چھوڑ نہیں دیتا بلکہ وہ مجبور ہوتا ہے کہ اس پر ایمان لائے۔ قرآن کا یہ اسلوب نصفِ قرآن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کا مطالعہ کرنے والوں کے لیے عربی زبان کا سیکھنا نہایت ضروری ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی ضرورت ہے جس کا حقیقی معنوں میں کوئی بدل نہیں۔ آخرت میں خدا کے نیک بندوں کو اپنے رب سے جو قربت نصیب ہو گی وہ دراصل اس کوشش کا نتیجہ ہو گی جو دنیا میں آدمی اپنے رب سے قریب ہونے کے لیے کرتا ہے اور یہ قربت کلامِ الٰہی سے گہرا تعلق قائم کیے بغیر نہیں ہو سکتی۔ اس لیے جو شخص بھی خدا کا بندہ بننا چاہتا ہو اور آخرت میں خدا کی رحمت حاصل کرنے کا امیدوار ہو اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کتاب کی زبان سیکھے جس میں اللہ تعالیٰ نے اس سے کلام کیا ہے۔ آخرت کے مسافر کے لیے عربی زبان کا سیکھنا بالکل اسی قسم کی ایک ضرورت ہے جیسے کسی غیر ملک کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page