Urdu book · عظمتِ قرآن

کائنات کا آغاز

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

سفارت حاصل کرنے کے لیے اس ملک کے حالات جاننا اور وہاں کی زبان سیکھنا۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کی ضرورت مسلّم، مگر موجودہ زمانے میں ہر شخص کو اتنا موقع کہاں ہے کہ وہ ایک غیر ملک کی زبان میں واقفیت اور مہارت حاصل کرے۔ مگر کیا فی الواقع صورتِ حال یہی ہے کہ موجودہ زمانے کے انسان کے لیے کوئی نئی زبان سیکھنا یا کسی زبان میں اپنی واقفیت کو بڑھانا ممکن نہیں رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے، یہ کام آج جتنا کیا جارہا ہے، پہلے شاید کبھی نہیں کیا گیا تھا۔ ہماری آنکھوں نے یہ تماشہ دیکھا ہے کہ آزادی کے بعد ملک کے جن مقامات پر ہندی کو سرکاری کام کا ذریعہ قرار دیا گیا تھا وہاں کے وہ ملازم جو اب تک ہندی زبان سے ناواقف تھے، انہوں نے دن رات ایک کر کے ہندی زبان سیکھی اور اب اس قدر بے تکلفی کے ساتھ ہندی میں کام کرتے ہیں گویا وہ ہمیشہ سے اس کو جانتے تھے۔ اسی طرح جو لوگ دنیوی ترقی چاہتے ہیں ان کو ہم عام طور پر دیکھتے ہیں کہ پرائیویٹ طور پر تیاری کر کے بی، اے، اور ایم، اے، کے امتحانات دیتے رہتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ دوسرا کام کرتے ہوئے انجام دیا جاتا ہے۔ اس سے صریح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ کمی اگر ہے تو فرصت کی نہیں بلکہ ارادے کی ہے، اگر یہ چیز موجود ہو تو نئی زبان بھی سیکھی جاسکتی ہے اور دوسری مصروفیتوں کے ساتھ ایک غیر زبان میں اپنی واقفیت بڑھانے کا سلسلہ بھی جاری رہ سکتا ہے۔ سادہ انداز میں قرآن سے استفادہ کرنے کے لیے صرف عربی زبان کا جاننا کافی ہے۔ مگر جو لوگ زیادہ گہرائی کے ساتھ قرآن کا مطالعہ کرنا چاہتے ہوں ان کے لیے مزید چند چیزوں میں واقفیت حاصل کرنا ضروری ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page