کائنات کا آغاز
Urdu book, p. 80
By Maulana Wahiduddin Khan
(2) قرآن کا گہرا مطالعہ کرنے کے لیے پہلی مددگار چیز سنت اور تفسیر کا علم ہے۔ ان دونوں کو ہم نے ایک خانے میں اس لیے نہیں رکھا ہے کہ دونوں کا مقام ایک ہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سنتِ صحیحہ اور قرآن میں کوئی فرق نہیں۔ ان میں سے ایک کا مطالعہ کرنا گو یا دوسرے کا مطالعہ کرنا ہے۔ اس کے بر عکس ، تفسیر کسی انسان کے مطالعہ قرآن کے نتائج کا نام ہے، اور انسان کا مطالعہ خواہ وہ کسی بھی شخص کا ہو، اس میں غلطیوں کا امکان ہے۔ اس لیے تفسیر کبھی قرآن کی جگہ نہیں لے سکتی اور نہ اس کو کسی حال میں سنت کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ اس فرق کے باوجود ان دونوں کو ایک سلسلے میں رکھنے کی وجہ دراصل وہ تاریخی نوعیت ہے، جو قرآن کے مقابلے میں اسے حاصل ہے۔ قرآن جس طرح مکمل اور محفوظ شکل میں ہم تک پہنچا ہے روایات اسی طرح ہم تک نہیں پہنچی ہیں۔ صحیح روایات کے ساتھ بہت سی غلط روایات بھی شامل ہو گئیں ہیں۔ اسی لیے علماء نے قرآن کے مقابلے میں اس کو قطعی علم کے بجائے ظنی علم کی حیثیت دی ہے۔ اگر احادیث میں ظن اور شبہ کا دخل نہ ہوتا اور ان کا ایسا کوئی ذخیرہ موجود ہوتا جس کو قطعی طور پر محفوظ قرار دیا جاسکے تو احادیث کو بھی اسی طرح اصل کا درجہ دیا جاتا جیسا کہ خود قرآن کا ہے۔ صرف حدیث ہی نہیں بلکہ وہ تمام ماخذ جو قرآن سے متعلق ہیں ان سب کا یہی معاملہ ہے۔ مثلاً تاریخ اور گزشتہ انبیاء علیہم السلام کے صحیفے اگر اپنی اصلی شکل میں محفوظ ہوتے تو یہ سب بھی قرآن ہی کی طرح اصل قرار پاتے اور سب بلا اختلاف ایک دوسرے کی تائید کرتے۔ تفسیر اور روایات کا ذخیرہ قرآن کو سمجھنے کے لیے ایک اہم مددگار کی حیثیت رکھتا ہے۔ صحیح روایات کی حیثیت یہ ہے کہ وہ خود قرآن لانے والے کی زبان سے قرآن کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader