کائنات کا آغاز
Urdu book, p. 82
By Maulana Wahiduddin Khan
مرضی بھیجتاہے۔ جن لوگوں نے اس کو قبول کیا وہ کامیاب ہوئے اور جنہوں نے اس کو نہیں مانا وہ تباہ کر دیے گئے۔ کائنات زبان حال سے جس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے، اقوام سابقہ کی تاریخ زبان قال سے اسی حقیقت کی تصدیق کرتی ہے۔ یہ دونوں دلیلیں آج بھی قرآن کو سمجھنے اور اس پر ایمان لانے کے سلسلے میں بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ قرآن اگرچہ سائنس کی کتاب نہیں ہے اور نہ وہ عام معنوں میں کوئی تاریخ ہے۔ مگر سائنس اور تاریخ یہی وہ خاص علوم ہیں جن پر ان کے استدلال کی بنیاد قائم ہے۔ اس لیے قرآن کا کوئی طالب علم ان علوم سے بے نیاز رہ کر قرآن سے صحیح فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ پہلے قسم کے استدلال کے سلسلے میں قرآن نے آفاق و انفس کی بہت سی نشانیوں کا ذکر کیا ہے اور ان پر غور کرنے کی دعوت دی ہے۔ یہ دلائل قرآن میں اس طرح نہیں آئے ہیں کہ ان کا تفصیلی تجزیہ کر کے سائنٹفک انداز میں ان کے نتائج مرتب کیے گئے ہوں بلکہ کائنات کی نشانیوں کا ذکر کر کے ان کی مختلف جہتوں کی طرف اشارہ کر دیا گیا ہے، جو غور کرنے والے کے لیے رہ نمائی کا کام دیتی ہیں۔ گویا دلائل کی تفصیل نہیں ہے بلکہ دلائل کے عنوانات ہیں۔ اس لیے ان سے پورا فائدہ اسی وقت حاصل کیا جاسکتا ہے جب کہ کائنات کے متعلق مزید معلومات کو سامنے رکھ کر ان کا مطالعہ کیا جائے۔ دوسرے لفظوں میں وہ معلومات اور نتائج آدمی کے ذہن میں ہونے چاہئیں جن سے ان دلائل کی وضاحت ہوتی ہے اور جو اس کے اشارات کو مفصل بنانے والے ہیں۔ مثلاً قرآن کہتا ہے: هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا (67:15)۔ وہی ہے جس نے زمین کو تمھارے لیے فرمانبردار بنایا تو چلو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader