کائنات کا آغاز
Urdu book, p. 84
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ تمام باتیں جو قرآن پیش کرتا ہے ان سب کے سلسلے میں اس کا اصل استدلال انسان کے اپنے وجود اور زمین و آسمان کے اندر پھیلی ہوئی نشانیوں سے پُر ہے وہ ہمارے مشاہدات اور تجربات ہی کی دلیل سے ہم کو اپنے نظریہ کا مومن بنانا چاہتا ہے اس لیے ان نشانیوں کو صحیح طور پر سمجھنے اور ان سے پورا فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم کو ان کے بارے میں ضروری علم حاصل ہو۔ جب قرآن کائنات کے کسی واقعے کی طرف اشارہ کرے تو ہم کو معلوم ہو کہ وہ کیا ہے، وہ جب کسی نشانی کا حوالہ دے تو ہم جانتے ہوں کہ ہماری زندگی کے لیے اس کی کیا اہمیت ہے، وہ جب کسی دلیل کا ذکر کرے تو ہم اس دلیل کے اطراف و جوانب سے اتنی واقفیت رکھتے ہیں کہ اس پر غور کر سکیں۔ غرض وہ جب بھی کائنات کے کسی رُخ کو ہمارے سامنے لائے تو ہماری آنکھیں اس کو دیکھنے کے لیے کھلی ہوئی ہوں اور ہمارا ذہن اس کو سمجھنے کے لیے ضروری واقفیت اپنے پاس رکھتا ہو۔ ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ قرآن میں کائنات کی جو دلیلیں مذکور ہوئی ہیں، وہ آخر مجمل انداز ہی میں کیوں ہیں، ان کو اتنا مفصل ہونا چاہیے تھا کہ قرآن میں ان کو پڑھ لینا کافی ہوتا، خارجی معلومات لے کر اس کا مطالعہ کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ جواب یہ ہے کہ انسانی زبان میں کوئی بھی کتاب ایسی نہیں لکھی جاسکتی جس میں وہ تمام باتیں اپنی ساری تفصیل کے ساتھ درج ہوں جن کا اس کتاب میں ذکر آیا ہے ہر مصنّف کو لازمی طور پر یہ فرض کرنا پڑتا ہے کہ اس کا پڑھنے والا فلاں فلاں قسم کی معلومات پہلے سے رکھتا ہوگا۔ اگر ایسا ہو تو دنیا میں شاید صرف انسائیکلوپیڈیا کا وجود ہو، کوئی مختصر کتاب لکھی ہی نہ جاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے بہت سے امور میں صرف اشارات سے کام لیا ہے، جو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader