کائنات کا آغاز
Urdu book, p. 85
By Maulana Wahiduddin Khan
باتیں وحی کے بغیر معلوم نہیں کی جاسکتییں، ان کی توقربان میں پوری تفصیل کی گئی ہے۔ مگر وہ باتیں جن کے جاننے کے لیے لازمی طور پر وحی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ انسان خدا کی دی ہوئی عقل سے کام لے کر بھی انہیں معلوم کر سکتا ہے، ایسی باتوں کی طرف صرف اشارہ کر دیا گیا ہے اور انسان سے کہا گیا ہے کہ ان پر غور کرو۔ اس کے علاوہ قرآن کے اس طرزِ بیان کے پیچھے ایک اور عظیم مصلحت ہے۔ قرآن ایک عام آدمی کے لیے بھی ہے اور ایک فلسفی کے لیے بھی۔ وہ ماضی کے لیے بھی تھا اور مستقبل کے لیے بھی ہے۔ اس لیے اس نے اپنی گفتگو کا ایسا انداز اختیار کیا جو ڈیڑھ ہزار برس پہلے کے انسان کے لیے قابلِ فہم ہو سکتا تھا اور پھر ان تمام لوگوں کے لیے بھی اس کے اندر نصیحت ہے جو آئندہ حاصل شدہ معلومات کو ذہن میں رکھ کر قرآن کا مطالعہ کریں۔ قرآن نے ان دلائل کا ذکر کرتے ہوئے ایسے الفاظ استعمال کیے ہیں جو بعد کے زمانوں میں حاصل شدہ معلومات کو بھی سمیٹ لیتے ہیں۔ یہ قرآنی اندازِ کلام کا اعجاز ہے کہ کائنات کی نشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے جس کے اندر ایک ایسا آدمی بھی اپنی تسکین پالینتا ہے جو کائنات کے بارے میں بہت تھوڑی معلومات رکھتا ہو اور انھیں الفاظ میں ایک سائنسداں اور فلسفی کے لیے بھی تسکین و تشفی کا سامان موجود ہے۔ (4) دوسری چیز جس پر قرآن کے استدلال کی بنیاد ہے وہ تاریخ ہے۔ قرآن انسانی تاریخ کو دو دوروں میں تقسیم کرتا ہے، ایک چھٹی صدی عیسوی سے قبل کی تاریخ جس کو وہ اس انداز میں پیش کرتا ہے کہ وہ حق و باطل کی آویزش کی تاریخ ہے جس میں لازمی طور پر ہمیشہ حق کو غلبہ ہوا ہے اور باطل کو شکست ہوئی ہے۔ قرآن کے مطابق چھٹی صدی عیسوی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader