Urdu book · عظمتِ قرآن

کائنات کا آغاز

Urdu book, p. 86

By Maulana Wahiduddin Khan

تک انسانی تاریخ جس انداز میں سفر کرتی رہی ہے وہ یہ ہے کہ زمین کے اوپر انسان نے جتنی بھی آبادیاں قائم کیں ان میں خدا کی طرف سے ایک نمائندہ (رسول) آیا، اس نے انسانوں کو ان کی زندگی کا مقصد بتایا، اس نے کہا کہ خدا نے مجھ کو یہ پیغام دے کر تمھارے پاس بھیجا ہے کہ تم اس کی بندگی کرو اور میں جو کچھ کہوں اس کو مانو، اس نے کہا کہ اگر تم میری بات نہ مانو گے تو تباہ کر دیے جاؤ گے۔ اس طرح نبی کا یہ چیلنج کہ زندگی و موت کا انحصار اس کی دعوت کو ماننے یا نہ ماننے پر ہے، یہ خود نبی کے دعوے کی صحت کو جانچنے کا ایک معیار بن گیا۔ قرآن کہتا ہے کہ تاریخ کسی استثنا کے بغیر مسلسل اس دعوے کے حق میں فیصلہ کرتی آئی ہے۔ جب بھی خدا کا کوئی رسول اٹھا تو کچھ لوگوں نے اس کی دعوت کو مانا اور کچھ لوگوں نے اس کا انکار کیا۔ اگر رسول کے پیروؤں کی تعداد اتنی ہوئی کہ وہ ایک منظم گروہ کی شکل اختیار کر سکے تو اس کو منکرین کے گروہ سے ٹکرایا گیا اور انہیں شکست دے کر ختم کر دیا گیا، اور اگر رسول کا ساتھ دینے والے بہت کم ہوئے تو خدا نے اپنی غیر معمولی مدد بھیج کر اس کو غالب کیا۔ حجت تمام کرنے کے بعد بالآخر رسول کی زبان سے یہ چیلنج دے دیا گیا: تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ذَلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ (11:65)۔ یعنی، اپنی بستیوں میں تین دن اور چل پھر لو (اس کے بعد تمھارے لیے زندگی کا کوئی موقع نہیں) یہ وعدہ جھوٹا نہیں ہے۔ چنانچہ خدا کا عذاب اپنے ٹھیک وقت پر آیا اور نبی اور اس کے پیروؤں کے سوا سب لوگ ہلاک کر دیے گئے۔ اس طرح ہر زمانے میں خدا اپنے رسولوں کو غالب کر کے اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page