Urdu book · عظمتِ قرآن

کائنات کا آغاز

Urdu book, p. 87

By Maulana Wahiduddin Khan

کے دعوے کا صحیح ہونا ثابت کرتا رہا ہے۔ یہ گویا تاریخ کی شہادت ہے کہ پچھلی تاریخ میں جن لوگوں نے اپنے آپ کو نمائندۂ الٰہی کی حیثیت سے پیش کیا وہ واقعی طور پر خدا کے نمائندے تھے اور انسان کے لیے ضروری ہے کہ ان کی تعلیمات کو اختیار کرے، جو ایسا نہ کرے گا تباہ و برباد ہو جائے گا، ٹھیک یہی صورت حال خود آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلے میں پیش آئی جن کے متعلق حضرت مسیح کا یہ قول پورا ہوا کہ "جو اس سے ٹکرائے گا وہ پاش پاش ہو جائے گا۔" تاریخ کی یہ نوعیت ہم کو تاریخ کے مطالعہ کی طرف متوجہ کرتی ہے تا کہ ہم قرآن کے ان وعدوں کو سمجھ سکیں جو اس نے پچھلی قوموں کے بارے میں کیے ہیں۔ مگر اس سلسلے میں ایک بڑی زحمت یہ ہے کہ پچھلی تاریخ اپنی اصلی شکل میں محفوظ نہیں ہے، پچھلی صدیوں میں جن لوگوں کے ہاتھوں علوم کا نشوونما ہوا ہے انہوں نے سائنس اور تاریخ دونوں کو مسخ کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ کائنات کا مطالعہ انہوں نے اس ڈھنگ سے کیا گویا وہ بذاتِ خود کوئی مستقل چیز ہے اور اپنے آپ حرکت کرتی ہے یہ مطالعہ ان کو صرف اس حد تک پہنچاتا ہے کہ "جو ہے وہ کیا ہے"۔ وہ اس کی طرف نشاندہی نہیں کرتا کہ "جو کچھ ہو رہا ہے وہ کیوں ہو رہا ہے"۔ اس کے سلسلے میں نہ صرف یہ کہ علماء سائننس خاموشی اختیار کرتے ہیں بلکہ ان میں سے بہت سے لوگوں نے یہ ثابت کرنے کی بھی کوشش کی کہ جو کچھ ہم کو محسوس ہوتا ہے وہی اصل حقیقت ہے اس کے پیچھے کوئی اور حقیقت نہیں۔ کائنات کا حیرت انگیز نظم اور اس کے مختلف اجزاء کا باہمی توافق اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ اس کے پیچھے کوئی بالا تر ذہن کام کر رہا ہے بلکہ یہ محض ایک حسن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page