کائنات کا آغاز
Urdu book, p. 88
By Maulana Wahiduddin Khan
اتفاق ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ اسی طرح تاریخ نگاری کا رُخ بھی بالکل دوسرا اختیار کیا گیا ہے۔ قدیم تاریخ میں قوموں کے عروج و زوال کے نہایت حیرت انگیز واقعات نظر آتے ہیں زمین کی تہہوں سے ایسے نشانات برآمد ہوئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کتنی ترقی یافتہ اور مہذب قومیں تھیں جو زمین کے نیچے دبا دی گئیں ۔ مگر ہمارے مؤرخین کے نزدیک ان واقعات کا حق و باطل کی جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مثلاً مصر کی تاریخ میں فرعون کی غرقابی کا ذکر اس طرح آتا ہے کہ بادشاہ سلامت ایک روز دریا پر نہانے گئے تھے کہ اتفاق سے وہاں ڈوب گئے۔ اس طرح سابق مورخین کا نقطۂ نظر اس فلسفۂ تاریخ سے بالکل مختلف ہے جو قرآن نے پیش کیا ہے۔ غرض سائنس اور تاریخ دونوں کا رُخ موجودہ زمانے میں غلط ہو گیا ہے۔ تاہم جہاں تک پہلی چیز یعنی علوم فطرت کا تعلق ہے، اوّلاً تو تمام سائنسدانوں کا انداز یکساں نہیں ہے، دوسرے ان کے اخذ کردہ نتائج کو بھی نہایت آسانی کے ساتھ صحیح رُخ کی طرف موڑا جاسکتا ہے۔ ان کے سلسلے میں ہمارا کام صرف یہ ہے کہ جن واقعات کو وہ اتفاق یا قانون علت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، ان کو خدا کے تصرف کا نتیجہ ثابت کریں۔ مگر تاریخ کے سلسلے میں یہ ایک اہم سوال ہے کہ کیا کیا جائے۔ قرآن کے سوا صرف بنی اسرائیل کا مذ ہبی لٹریچر ہے جو قرآن کے تاریخی نظریے کی تائید کرتا ہے، اس کے علاوہ غالباً کہیں سے بھی اس کی تائید نہیں ملتی۔ اس سلسلے میں قرآن کے طالب علم کو بہت سے کام کرنے ہیں۔ مثلاً دوسرے مذاہب کا لٹریچر کا اس حیثیت سے جائزہ لینا کہ وہ قوموں کے عروج و زوال کا کیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader