Urdu book · عظمتِ قرآن

کائنات کا آغاز

Urdu book, p. 89

By Maulana Wahiduddin Khan

فلسفہ پیش کرتا ہے، ان کے یہاں بہت سی غلط روایات شامل ہو گئی ہیں مگر یہ عین ممکن ہے کہ ایسے اشارات اور ایسی بنیادیں مل سکیں جن سے قرآن کے تصور تاریخ کے حق میں استدلالی قرینہ حاصل کیا جا سکے۔ اسی طرح قدیم ترین مورخوں کے یہاں چھان بین کرنی ہے کہ انہوں نے سابقہ اقوام کے حالات میں کیا کچھ بیان کیا ہے، آثار قدیمہ کی کھدائی سے جو نشانات اور کتبات برآمد ہوئے ہیں ان کا جائزہ لے کر دیکھنا ہے کہ ان کے ذریعہ سے قرآن کے فلسفہ تاریخ کی کس حد تک تائید ہوتی ہے۔ یہ ایک بہت مشکل کام ہے مگر قرآنی استدلال کے ایک جزء کو واضح کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس سلسلے میں بھی کچھ کام کیا جائے۔ یہ کام ہر طالب قرآن کا نہیں ہے، مگر کچھ لوگوں کو ضرور یہ کام کرنا چاہیے تاکہ دوسرے لوگ ان کی تحقیقات سے فائدہ اٹھا سکیں۔ علم الحیات کے ماہرین (biologists) کا خیال ہے کہ انسان اپنی موجودہ صلاحیتوں کے ساتھ تقریباً تین لاکھ برس سے اس زمین پر آباد ہے۔ مگر ان کو یہ بات بڑی تعجب خیز معلوم ہوتی ہے کہ موجودہ تمام ذہنی صلاحیتوں کے باوجود انسان کی ترقی کی عمر ابھی چند سو سال ہے۔ اس سے پہلے ہزاروں، لاکھوں برس وہ خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرتا رہا اور پتھر کے چند بے ڈھنگے ہتھیار بنانے کے سوا اس نے کوئی نمایاں ترقی نہ کی۔ اس کو اپنے ہتھیاروں کو سیدھی دھار دینے اور آگ کے استعمال کو سیکھنے کے لیے ہزاروں برس درکار ہوئے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اب سے چھ ہزار برس قبل انسان کو وادی نیل میں خود رو جواگتے ہوئے دکھائی دیے اور اس مشاہدے سے اس نے زراعت کار از معلوم کیا۔ طریقہ زراعت کے انکشاف اور اس کے اختیار کرنے سے انسان سکونتی زندگی پر مجبور ہوا، اور اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page