کائنات کا آغاز
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
کے بعد تمدّن کی بنیاد پڑی۔ مگر یہ انسانی تاریخ کا صحیح مطالعہ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس زمین پر بار بار نہایت شان دار تمدّن پیدا ہوئے اور مٹا دیے گئے، قومیں ابھریں اور فنا ہو گئیں، پچھلے زمانے میں جب نبیوں کی آمد کا سلسلہ جاری تھا۔ کسی قوم میں آنا دراصل اس کے لیے خدا کی عدالت کا قائم ہونا تھا۔ تاریخ میں بار بار ایسا ہوا کہ قومیں ابھریں اور انہوں نے بڑے بڑے تمدّن قائم کیے ۔ مشہور مورّخ سر فلنڈرس (1842-1853, Sir W. M. Flinders Petrie) نے اپنی کتاب انقلاباتِ تمدّن (The Revolutions of Civilisation) میں لکھا ہے کہ تمدّن ایک مظہر ہے جو متوالی ہے ، یعنی بار بار آتا ہے : Civilisation is an intermittent phenomenon. اس نے ثابت کیا ہے کہ پچھلے دس ہزار برسوں میں تقریباً آٹھ "تمدّنی دور" گزرے ہیں۔ ہر دور سے قبل ایک زمانہ بربریت کا گزرا ہے اور اس کے بعد عہدِ زوال آیا ہے۔ اس نظریہ تاریخ کو اگر صحیح مان لیا جائے تو اس سے بھی ہمارے خیال کی تائید ہوتی ہے۔ مگر جب نبی آیا اور انہوں نے اس کی اطاعت نہیں کی تو خدا کی عدالت سے ان کے لیے فنا کا فیصلہ ہوا اور وہ اپنے بڑے بڑے شہروں اور قلعوں کے ساتھ تباہ کر دی گئیں۔ دوسرے دور کے بعد اب یہ عمل قیامت کے دن ہو گا۔ اس وقت ساری دنیا ایک وقت فنا کر کے تمام انسان خدا کی عدالت میں حاضر کیے جائیں گے، اس صورت حال نے قدیم دور میں تمدّن کو ترقی اور بقاء کے وہ مواقع نہیں دیے جن کا موقع بعد کے دور میں حاصل ہوا ہے۔ قدیم تاریخ اور جدید تاریخ کے اس پہلو کا علم نہایت ایمان افروز بھی ہے اور قرآنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader