کائنات کا آغاز
Urdu book, p. 91
By Maulana Wahiduddin Khan
دلائل کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم بھی۔ (5) اس سلسلے میں آخری چیز جو قرآن کے مطالعہ کے لیے مددگار علم کی حیثیت رکھتی ہے، وہ بنی اسرائیل کی مذہبی کتابوں کا مطالعہ ہے جن کا قرآن میں بار بار ذکر آیا ہے۔ قرآن کے مطالعہ کے سلسلے میں صحفِ بنی اسرائیل کا مطالعہ کرنا، گویا ایک آسمانی کتاب کو سمجھنے کے لیے دوسری آسمانی کتاب سے مدد لینا ہے۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ہم کتب سابقہ کو بطورِ معیار تسلیم کر رہے ہیں، یہ کتابیں کبھی معیار نہیں بن سکتیں۔ اس سے قطع نظر کہ ان میں تحریف ہو چکی ہے اور وہ اپنی اصلی شکل میں باقی نہیں رہی ہیں۔ یہ واقعہ کہ قرآن آسمان سے اترنے والی آخری کتاب ہے اور بقیہ تمام کتابیں اس سے پہلے کی ہیں۔ صرف یہ حقیقت اس کے ثبوت کے لیے کافی ہے کہ قرآن ہی کو معیار ہونا چاہیے۔ کسی بادشاہ کا آخری فرمان اس کے سابقہ فرامین کا ناسخ ہوتا ہے، نہ کہ سابقہ فرامین اس کے آخری فرمان کی تنسیخ کرتے ہیں۔ جو شخص آخری فرمان کو چھوڑ کر سابقہ فرمان کی پیروی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ بھی تو مالک کی طرف سے آیا ہے وہ قطعی طور پر نفس پرستی میں مبتلا ہے، وہ اپنی رائے کی پرستش کر رہا ہے، نہ کہ صاحب فرمان کے حکم کی۔ اس لیے قرآن خدا کی مرضی معلوم کرنے کے لیے آخری سند کی حیثیت رکھتا ہے۔ بقیہ کتابوں سے ہم قرآن کا حقیقی مفہوم سمجھنے میں مدد لے سکتے ہیں، مگر ان کو حجت نہیں بنا سکتے۔ مدد لینے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک تو زبان اور اسلوب بیان کے اعتبار سے۔ دوسرے تعلیمات کے اعتبار سے۔ یہ معلوم ہے کہ انجیل اور تو رات کی اصل زبان عبرانی ہے اور عربی اور عبرانی دونوں ایک ہی اصل سے نکلی ہیں۔ اس لیے قدرتی طور پر دونوں زبانوں میں کافی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader