Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت یہ ہے کہ اعتراف حق ایک عبادت ہے، بلکہ وہ سب سے بڑی عبادت ہے۔ یہ وہ عمل ہے جس کے لیے آدمی کو سب سے بڑی قربانی دینا ہوتا ہے، یہ سب سے بڑی قربانی اس کو سب سے بڑی عبادت بنادیتی ہے۔ یہ قربانی اپنے وقار کی قربانی ہے۔ یہ اپنی بڑائی کو کھونے کی قربانی ہے۔ یہ حق کے لیے اپنے آپ کو بے قیمت کرنے کی قربانی ہے۔ یہ وہ موقع ہے جب کہ آدمی جنت کی قیمت دے کر جنت میں داخلہ کا استحقاق حاصل کرلیتا ہے۔ اس عظیم عبادت اور اس عظیم خوش قسمتی کا موقع کسی کو کب ملتا ہے۔ یہ موقع صرف اس وقت ملتا ہے جب کہ لوگوں کو اظہارِ خیال کی پوری آزادی ہو۔ جب کسی رکاوٹ کے بغیر ایک آدمی دوسرے آدمی پر تنقید کرسکے۔ جب معاشرہ میں یہ ماحول ہو کہ کہنے والا بے تکلف اپنی بات کو کہے اور سننے والا کھلے طور پر اس کو سنے۔ جس طرح مسجد نماز باجماعت کی ادائیگی کا مقام ہے، اسی طرح اظہارِ خیال کی آزادی گویا وہ سازگار ماحول ہے جس کے اندر حق کو کہنے اور حق کو قبول کرنے والی عظیم نیکیاں جنم لیتی ہیں۔ اسی طرح کے ماحول میں وہ معاملات پیش آتے ہیں جب کہ ایک شخص کو اعلانِ حق کا کریڈٹ دیا جائے اور دوسرے شخص کو قبولِ حق کا انعام۔ خدا کا تخلیقی نقشہ دنیا میں ہدایت کا نظام ایمان بالغیب (البقرۃ، 2: 3) کے اصول پر قائم ہے۔ یعنی یہاں تمام حقیقتوں کو غیر مرئی حالت میں رکھ دیا گیا ہے۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ اپنی فکری قوتوں کو عمل میں لاکر ان پوشیدہ حقیقتوں کو دریافت کرے اور پھر ان کی کامل مطابقت میں اپنی زندگی گزارے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page