خدا کا تخلیقی نقشہ
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کو اپنا بڑا بنائے، حالاں کہ خدا کی بڑائی اس کی آنکھوں کے سامنے موجود نہیں۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ خدا کی پکڑ سے ڈرے، حالاں کہ خدا کی تعذیبی طاقت دنیا میں کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ اسی طرح انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ داعیانِ حق کا ساتھ دے، مگر داعیانِ حق ہمیشہ عام انسان کے روپ میں سامنے آتے ہیں، ان کو پہچاننا صرف اس کے لیے ممکن ہوتا ہے جو ظاہر سے گزر کر باطن کی سطح پر دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ یہی عام دنیوی چیزوں کا معاملہ بھی ہے۔ دنیا میں بے شمار مادی امکانات تھے۔ مگر وہ سب زمین کے اندر چھپا کر رکھ دیے گئے۔ ان مادی امکانات کو دریافت کرکے انھیں ایک ترقی یافتہ تمدن کی صورت دینا، یہ انسان کا کام تھا جو موجودہ زمانہ میں بڑے پیمانہ پر انجام دیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ فطرت کا طریقۂ عین وہی ہے جس کو فنِ تعلیم میں اکتشافی طریقہ (discovery method) کہا جاتا ہے۔ اس اکتشافی طریقہ کو قابلِ عمل بنانے کے لیے انسان کو ایک اعلیٰ درجہ کا ذہن دیا گیا جو امکانی طور پر ہر قسم کی ضروری صلاحیتوں سے بھرا ہوا تھا۔ انسان کا ذہن اس قابل تھا کہ وہ غور و فکر کرکے اشیاء کی حقیقتوں کو جانے۔ ایک طرف وہ اپنے خالق کو پہچانے، اور دوسری طرف دنیا کے اندر چھپی ہوئی مادی نعمتوں کو دریافت کرکے انھیں اپنی تعمیرِ حیات میں استعمال کرے۔ پیغمبر کی حیثیت اس عمل میں ایک مستند رہنما کی ہے۔ خدا کا پیغمبر وہ بنیادی اصول دے دیتا ہے جس کی رہنمائی میں انسان اپنا اکتشافی سفر شروع کرے اور اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچائے۔ اس طرح جو حقیقت ملتی ہے وہ آدمی کے لیے اس کی ذاتی دریافت ہوتی ہے۔ وہ اس کی پوری شخصیت کو متاثر کرتی ہے۔ وہ اس کے لیے ابدی سرمایۂ حیات بن جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader