Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 116

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت یہ ہے کہ جب ایک شخص خدائے رب العالمین پر ایمان لاتا ہے تو عین اس کا ایمان ہی اس کے اندر آفاقی ذہن پیدا کر دیتا ہے۔ وہ فطرت سے جڑ جاتا ہے جو عین اپنی نوعیت کے اعتبار سے کائناتی ہے۔ وہ دریافت کرتا ہے کہ وہ وسیع ترانسانی برادری کا ایک جزء ہے کیونکہ ساری انسانی برادری ایک ہی خدا کی مخلوق اور اس کی عیال ہے۔ یہ آفاقی ذہن اس کے اندر آفاقی محبت کی پرورش کرتا ہے۔ سارے انسان اس کو اپنے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اس کے سینہ میں سارے انسانوں کی محبت کا چشمہ ابل پڑتا ہے۔ وہ سب کو اپنا سمجھنے لگتا ہے اور اپنے آپ کو سب کا۔ اسلام کی بنیاد پر بننے والے انسان کا مزاج اپنے آپ اس کو تمام انسانوں کا خیر خواہ بنا دیتا ہے۔ وہ تمام انسانوں سے محبت کرنے والا ہو جاتا ہے۔ تمام انسانوں کی خدمت کرنے کا جذبہ اس کے اندر امنڈ پڑتا ہے۔ وہ ہر اعتبار سے ایک آفاقی انسان بن جاتا ہے۔ احترام انسانیت قرآن میں اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا کہ : ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی اور ہم نے ان کو خشکی اور تری میں سوار کیا۔ اور ان کو پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا اور ہم نے ان کو بہت سی مخلوقات پر فوقیت دی (70: 17)۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان عین اپنی پیدائش کے اعتبار سے عزت وتکریم کا مستحق ہے۔ یہ تکریم ہر انسان کو فطری طور پر حاصل ہے، خواہ وہ ایک گروہ سے تعلق رکھتا ہو یا دوسرے گروہ سے۔ حدیث میں ہے کہ : لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيُوَقِّرُ كَبِيرَنَا (سنن الترمذی، حدیث نمبر 1919)۔ یعنی، وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے چھوٹے پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑے کی عزت نہ کرے۔ اسی طرح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page