دینِ انسانیت
Urdu book, p. 117
By Maulana Wahiduddin Khan
علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے، جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کی عزت کرے: مَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ (صحيح البخاري، حديث نمبر 6019)۔ قرآن وحديث میں کثرت سے ایسے احکام ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ جو شخص خدا کے دین پر ایمان لائے اس پر لازم ہے کہ وہ خدا کے بندوں کا احترام کرے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی آدمی کی خدا پرستی کا اصل امتحان جہاں لیا جا رہا ہے وہ یہی لوگ ہیں۔ خدا سے تعلق کا اظہار اس دنیا میں دوسرے انسانوں سے تعلق کی شکل میں ہوتا ہے۔ خدا سے محبت کرنے والا، عین اپنے اندرونی جذبہ کے تحت خدا کے بندوں سے محبت کرنے لگتا ہے۔ انسان کا یا انسانیت کا احترام کرنا یہ اسلام کی ایک بنیادی تعلیم ہے۔ کوئی آدمی اپنے مذہب کا ہو یا دوسرے مذہب کا۔ اپنی قوم سے تعلق رکھتا ہو یا غیر قوم سے۔ اپنے ملک کا آدمی ہو یا کسی اور ملک کا باشندہ ہو، حتی کہ وہ دوست فرقہ سے تعلق رکھتا ہو یا دشمن فرقہ سے، ہر حال میں وہ قابل احترام ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود انسان کا احترام کیا جائے ۔ اس کا رویہ اگر مخالفانہ ہو تب بھی اس کے رویہ کو نظر انداز کر کے اس کے ساتھ عزت کا سلوک جاری رکھا جائے۔ اسلام کی نظر میں ہر انسان انسان ہے، ہر انسان اس قابل ہے کہ اس کا احترام کیا جائے۔ سب پر سلامتی اسلام میں زندگی کے جو آداب بتائے گئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب دو آدمی آپس میں ملیں تو وہ ایک دوسرے کو سلام کریں۔ یعنی ایک شخص کہے کہ السلام علیکم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader