Urdu book · دینِ انسانیت

سب پر سلامتی

Urdu book, p. 118

By Maulana Wahiduddin Khan

(تمہارے اوپر سلامتی ہو) اس کے بعد دوسرا شخص جواب میں کہے : وعلیکم السلام (تمہارے اوپر بھی سلامتی ہو)۔ سلام کا یہ کلمہ ایک قسم کی دعا ہے۔ ایک مومن کے دل میں دوسرے مومن کے لیے خیر خواہی کا جذبہ ہوتا ہے۔ یہ جذبہ مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ ان میں سے ایک مذکورہ سلام کا طریقہ ہے۔ سلام کی بہترین تشریح وہ ہے جو ابن عُیینہ (وفات 198ھ) سے نقل کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا : کیا تم جانتے ہو کہ سلام کیا ہے۔ سلام کرنے والا دوسرے شخص سے کہتا ہے کہ تم مجھ سے محفوظ ہو: هَلْ تَدْرِي مَا السَّلَامُ يَقُولُ : أَنْتَ آمِنٌ مِنِّي (بر الوالدین للبخاری ، اثر نمبر 45)۔ سلام کی یہ تشریح بہت با معنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں ہر اعتبار سے تمہارا خیر خواہ ہوں۔ میری طرف سے تمہیں کوئی خطرہ نہیں۔ میں تمہارے لیے کوئی مسئلہ پیدا کرنے والا نہیں۔ تم سے میری گفتگو ہو تو میں ہرگز ایسا نہیں کروں گا کہ میں تم سے بدکلامی کرنے لگوں۔ تمہارے ساتھ میرا کوئی لین دین ہو تو میں تمہارے ساتھ غضب اور خیانت کا معاملہ نہیں کروں گا۔ بلکہ تمہارا جو حق ہے، اس کو انصاف اور دیانت کے ساتھ پورا پورا ادا کروں گا۔ تمہارے خلاف اگر مجھے کوئی شکایت ہو جائے تب بھی ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں عدل کے راستہ سے ہٹ جاؤں اور تمہارا دشمن بن کر تمہاری جڑ کاٹنے لگوں۔ تم سے اگر مجھے کوئی اختلاف ہو تو میں اس اختلاف کو جائز تنقید کے دائرہ میں رکھوں گا، میں اس کو عیب جوئی، الزام تراشی اور کردار کشی کی حد تک ہر گز نہیں لے جاؤں گا۔ السلام علیکم کوئی رسمی کلمہ نہیں، وہ با اصول زندگی گزارنے کا ایک عہد ہے۔ السلام علیکم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page