دینِ انسانیت
Urdu book, p. 119
By Maulana Wahiduddin Khan
کہنے والا گویا اس بات کا اعلان کر رہا ہوتا ہے کہ روزمرہ کی زندگی میں اس کا سلوک دوسروں کے ساتھ کیسا ہوگا۔ وہ سلامتی اور خیر خواہی کا ہوگا نہ کہ بے امنی اور بدخواہی کا۔ خدمت عام قرآن میں اعلیٰ انسان کی جو صفات بتائی گئی ہیں ، ان میں سے ایک صفت یہ ہے کہ — وہ لوگ جن کے مالوں میں مقرر حصہ ہے ، سوال کرنے والے کے لیے بھی اور محروم کے لیے بھی : وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَعْلُومٌ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ (24-25: 70) ۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ دوسروں کے کام آئے ۔ وہ دوسروں کی خدمت کر سکے ۔ اسلام آدمی کے اس جذبہ کو آخری حد تک جگا دیتا ہے۔ جو آدمی مومنانہ اور مسلمانہ جذبات میں جی رہا ہو ، وہ سمجھنے لگتا ہے کہ میرا مال یا میری چیزیں صرف میری نہیں ہیں۔ اس میں دوسروں کا بھی حق ہے ۔ وہ نہ صرف ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اس سے سوال کریں ۔ بلکہ وہ ان کا بھی مددگار بن جاتا ہے جو ضرورت مند ہیں ، اگرچہ انھوں نے کسی وجہ سے سوال نہیں کیا۔ قرآن میں محروم کا جو لفظ آیا ہے ، اس کی تشریح امام مالک نے یہ کی ہے کہ اس سے مراد وہ ہے جو رزق سے محروم رہا (اَنَّہُ الَّذِي يُحْرُمُ الرَّزْقَ ) ۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے ایک جانور کو دیکھا جو بھوکا تھا اور بظاہر اس کے کھانے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ انھوں نے کہا کہ یہ بھی انھیں میں سے ہے جس کو قرآن میں محروم کہا گیا ہے۔ ( تفسیر القرطبی ، جلد 17 ، صفحہ 39) مفسر الرازی نے مزید توسیع دی ہے اور لکھا ہے کہ اس میں درخت بھی شامل ہیں ۔ اگر کوئی درخت پانی نہ ملنے کی وجہ سے سوکھ رہا ہو تو وہ بھی محروم ہے ، اور اس کو پانی پہنچانا اہل ایمان کی ذمہ داری ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader