Urdu book · دینِ انسانیت

خدا کا تخلیقی نقشہ

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر دنیا کی تاریخ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر انسانیت کے آغاز کے جلد ہی بعد بادشاہت کی صورت میں جبر کا نظام قائم ہو گیا۔ تمام آباد دنیا کچھ بادشاہوں کے زیرِ قبضہ آگئی۔ ان بادشاہوں نے اپنے اقتدار کو مستحکم بنانے کے لیے کامل جبر کا نظام اختیار کر لیا۔ اس طرح ساری دنیا میں آزادانہ فکر اور آزادانہ اظہارِ خیال کا خاتمہ ہو گیا۔ وہ چیز جس کو آزادیٔ اظہار (freedom of speech) کہا جاتا ہے وہ قدیم دنیا میں سرے سے موجود ہی نہ تھی۔ یہی جبر کا نظام ہے جس نے پچھلے زمانوں میں پیغمبروں کی بات کو چلنے نہیں دیا۔ پھر یہی جبر کا نظام ہے جو سائنسی دریافتوں اور ترقیوں میں مسلسل رکاوٹ بنا رہا۔ کیوں کہ کوئی بھی تصور اپنے ارتقا کے لیے آزادانہ سوچ اور آزادانہ بحث چاہتا ہے۔ قدیم نظام جبر میں اظہارِ خیال کی آزادی نہ تھی، اس لیے کھلا غور و فکر بھی اس زمانہ میں ممکن نہ تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوتِ عامہ کے علاوہ یہ خاص کام بھی سونپا گیا کہ وہ دنیا میں قائم شدہ جبر کے نظام کو توڑ دیں۔ اس کے لیے انھیں خصوصی طور پر تمام ضروری مدد فراہم کی گئی۔ چنانچہ آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے سو سال سے بھی کم عرصہ میں ساری دنیا میں یا تو شاہی جبر کے اداروں کو توڑ دیا، یا اس کی بنیادیں اتنی کمزور کر دیں کہ اپنے وقت پر وہ خود ہی گر پڑے۔ اس سلسلہ میں رسول اور اصحابِ رسول نے جو جہاد کیا وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک قسم کا خدائی آپریشن تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ جبر کے مصنوعی نظام کو توڑ کر آزادیٔ فکر کے فطری نظام کو قائم کر دیا جائے، تا کہ انسان کے لیے ہر قسم کی دینی اور دنیوی ترقی کا دروازہ کھل جائے۔ اسی نظامِ جبر کو قرآن میں فتنہ کہا گیا اور یہ حکم دیا گیا کہ اس نظام کے حاملین سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہو جائے (8:39) اس آیت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page