دینِ انسانیت
Urdu book, p. 120
By Maulana Wahiduddin Khan
ایمان جب کسی آدمی کے دل میں جگہ پاتا ہے تو اس کے اندر خدمتِ عام کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے ۔ وہ نہ صرف سائل کی ضرورت پوری کرنے کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے، بلکہ اس کا احساس یہ ہو جاتا ہے کہ ہر محروم کا اس کے اوپر حق ہے، خواہ وہ انسان ہو یا جانور یا کوئی درخت ۔ اسلام آدمی کو انتہائی سنجیدہ اور انتہائی حساس بنا دیتا ہے۔ ایسا آدمی سارے لوگوں کو اپنا سمجھنے لگتا ہے، وہ جان لیتا ہے کہ اس کا مال خدا کا عطیہ ہے۔ اس کا یہ احساس اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ اس کو خدا کی راہ میں خرچ کرے۔ رحمت، سیف قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمتہ للعالمین (21:107) کہا گیا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ انا محمد ... ونبی الرحمۃ (صحیح مسلم ، حدیث نمبر 2355) ایک طرف پیغمبر اسلام کی حیثیت کے بارے میں اس قسم کے کھلے بیانات ہیں۔ دوسری طرف حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میرا رزق میرے نیزہ کے سایہ کے نیچے رکھا گیا ہے: جُعِلَ رِزْقِي تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِي (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2913) ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: بُعِثْتُ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ بِالسَّيْفِ (مسند احمد، حدیث نمبر 5115)۔ یعنی، میں قیامت سے پہلے تلوار کے ساتھ بھیجا گیا ہوں۔ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے مختلف نظر آتی ہیں۔ مگر ان میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ درحقیقت دو الگ الگ پہلو ہیں۔ رحمت کی بات ایک پہلو سے کہی ہے اور سیف کی بات دوسرے پہلو سے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader