دینِ انسانیت
Urdu book, p. 121
By Maulana Wahiduddin Khan
اصل یہ ہے کہ صرف پیغمبر اسلام ہی رحمت کے پیغمبر نہ تھے۔ بلکہ خدا نے جتنے پیغمبر بھیجے وہ سب پیغمبر رحمت ہی تھے۔ سب کے سب دین رحمت ہی لے کر آئے۔ مثال کے طور پر قرآن میں حضرت موسیٰ کی کتاب کو رحمت فرمایا گیا ہے (11:17)۔ مگر فرق یہ ہے کہ پچھلے پیغمبروں کے ساتھ کوئی طاقت ور ٹیم تیار نہ ہوسکی جو پیغمبروں کے مشن کے حق میں مؤثر طور پر حمایت اور دفاع کا کام کر سکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پچھلے پیغمبروں کے مشن کو مخالفین نے عملی طور پر آگے بڑھنے نہیں دیا۔ پچھلے پیغمبروں کے زمانہ میں خدا کا دین صرف فکری تحریک کے مرحلہ میں رہا، وہ فکری انقلاب کے مرحلہ تک نہیں پہنچا۔ اس کے برعکس پیغمبر اسلام کو خدا کی مدد سے ”اصحاب سیف“ بالفاظ دیگر، طاقت ور حمایت گروہ حاصل ہو گیا۔ چنانچہ مخالفین نے جب جارحیت کر کے آپ کے پرامن مشن کو دبانا اور مٹانا چاہا تو آپ بھی اپنے ساتھیوں کی مدد سے اس پوزیشن میں تھے کہ ان کی جارحیت کا مؤثر جواب دے کر ان کے مخالفانہ عزائم کو نا کام بنا دیں۔ مذکورہ قسم کی احادیث میں نیزہ اور تلوار کا لفظ آپ کی دفاعی طاقت کو بتانے کے لیے ہے نہ کہ آپ کی اصل پیغمبرانہ حیثیت کو بتانے کے لیے۔ جنگ کا حکم وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ (2:190)۔ یعنی، اور اللہ کے راستہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور زیادتی نہ کرو۔ بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader