جنگ کا حکم
Urdu book, p. 122
By Maulana Wahiduddin Khan
اعتداء کے معنی ہیں زیادتی کرنا ، تجاوز کرنا۔ یہاں یہ لفظ جارحیت (aggression) کے معنی میں ہے۔ الراغب الاصفہانی نے یہاں اس کو جارحیت کے آغاز (الاعتداء علی سبیل الابتداء) کے معنی میں لیا ہے (المفردات فی غریب القرآن، صفحہ 327)۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2966)۔ یعنی، تم لوگ دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو۔ اور اللہ سے عافیت مانگو۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام مکمل طور پر امن کا مذہب ہے۔ اسلام میں امن کی حیثیت حکم عام کی ہے اور جنگ کی حیثیت صرف استثناء کی۔ یہ استثنائی حکم اس وقت کے لیے ہے جب کہ کسی نے یک طرفہ طور پر جنگ کا آغاز کر دیا ہو۔ اس وقت دفاع کے طور پر جنگ کی جائے، مگر خود سے جنگ چھیڑنے کی اجازت اسلام میں نہیں۔ تا ہم یہ دفاع بھی ایک ضروری شرط کے ساتھ مشروط ہے، اور وہ اعراض ہے۔ سنت رسول کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ فریق ثانی اگر جنگ کے حالات پیدا کرے تب بھی ابتدائی کوشش اسی کی ہوگی کہ عملی طور پر جنگ کی نوبت نہ آئے۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ جنگ سے بچنے کی ہر کوشش ناکام ہو جائے اور فریق ثانی کی طرف سے جنگ کا عملی آغاز کر دیا جائے تو اس وقت آخری چارہ کار کے طور پر جنگ کی جائے گی۔ اسلام ملک گیری کا مذہب نہیں۔ وہ مکمل طور پر ایک دعوتی مذہب ہے۔ اور دعوت کا کام ہمیشہ امن چاہتا ہے، جنگ کا ماحول دعوتی کام کے لیے ہر گز مناسب نہیں۔ امن میں دعوت کو فروغ حاصل ہوتا ہے اور جنگ میں دعوت کا کام معطل ہو جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader