دینِ انسانیت
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
میں دین سے مراد دین شرعی نہیں بلکہ دین فطری ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی تخلیقی اسکیم میں خلل ڈالنے والے ان ظالموں سے جنگ کروتا کہ فکری جبر کا غیر فطری نظام جو انھوں نے رائج کر رکھا ہے اس کا خاتمہ ہو اور فکری آزادی کی بنیاد پر خدا کا مطلوب نظام دنیا میں قائم ہو سکے۔ مصنوعی حالت ختم ہو کر اصل فطری حالت زمین پر بحال ہو جائے ۔ یہ کام اب مکمل طور پر ساری دنیا میں انجام پا چکا ہے۔ اور اس نے انسان کے اوپر ہر قسم کی سعادت کے دروازے کھول دیے ہیں۔ تواصی بالحق قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس دنیا میں خسران اور گھاٹے سے صرف وہ لوگ محفوظ رہتے ہیں جو تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کا کام کریں (3-1: 103) اسی طرح قرآن میں خیر امت یا بہتر گروہ کی خاص صفت یہ بتائی گئی ہے کہ ان کے درمیان امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نظام قائم ہو (3: 110)۔ یہ تواصی بالحق یا امر بالمعروف کیا ہے، وہ حدیث کے الفاظ میں یہ ہے کہ کوئی آدمی جب کوئی نادرست بات دیکھے تو وہ اس کو درست کرنے کی کوشش کرے۔ طاقت ہو تو ہاتھ سے اور طاقت نہ ہو تو زبان سے۔ تواصی بالحق اسی عمل کا ابتدائی درجہ ہے، اور امر بالمعروف اسی عمل کا اگلا درجہ یا مرحلہ۔ اس مطلوب شرعی عمل کو کسی سماج میں جاری کرنے کی پہلی شرط یہ ہے کہ وہاں اظہارِ خیال کی مکمل آزادی ہو۔ ہر آدمی کے لیے یہ ممکن ہو کہ جب بھی وہ کسی خلاف حق بات کو دیکھے تو وہ کسی رکاوٹ کے بغیر کھلے طور پر اس کے بارے میں بول سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader