Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 134

By Maulana Wahiduddin Khan

ان چند حوالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام کیا ہے۔ اور اسلامی کلچر حقیقتاً کسے کہتے ہیں ۔ اسلام خدا وند عالم کی حیثیت خدا وندی کا ظہور ہے ۔ اسلام ساری کائنات کا دین ہے۔ اسلام وسیع تر انسانیت کا نمائندہ ہے۔ ایسی حالت میں اسلام کی وہی تشریح درست ہوگی جو اس کی ان حیثیتوں سے مطابقت رکھتی ہو۔ جو تشریح اسلام کے ان اعلی تقاضوں کے مطابق نہ ہو وہ صحیح اسلامی تشریح بھی نہیں۔ سچا اسلام وہ ہے جو لوگوں کے اندر خدا کا خوف پیدا کرے ۔ جو لوگوں میں دنیا پرستی کے مقابلہ میں آخرت پسندی کا ذہن بنائے۔ جو لوگوں کے دلوں میں انسان کی محبت پیدا کرے ۔ جو لوگوں کو اپنے اور غیر کا فرق کیے بغیر سب کا خیر خواہ بنائے۔ جس کا نتیجہ یہ ہو کہ آدمی اپنے حقوق سے زیادہ اپنی ذمہ داریوں پر نظر رکھنے لگے۔ اسلام جن لوگوں کے دلوں میں اترتا ہے وہ انھیں رحمت اور سلامتی کا پیکر بنا دیتا ہے۔ اسلام اور نفرت و عداوت دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ حقیقت اسلام جہاد کے لفظی معنی جد و جہد کے ہیں۔ اسلام میں با مقصد کوشش ہے، اسلام میں لڑ کر مر جانا نہیں۔ اسلام آدمی کو ایک تعمیری مشن دیتا ہے۔ اور مشن کا تقاضا ہے کہ آدمی اس کو بروئے کار لانے کے لیے اپنی خدا داد صلاحیتوں کا نتیجہ خیز استعمال کرے نہ کہ بے فائدہ طور پر لڑ کر اپنا خاتمہ کرلے۔ مکہ میں پیغمبرِ اسلام اپنے دشمنوں سے لڑ کر شہید نہیں ہو گئے بلکہ آپ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے گئے تا کہ اپنے ربانی مشن کو جاری رکھنے کا موقع پاسکیں۔ قرآن میں کہیں بھی مطلق طور پر یہ بات نہیں کہی گئی ہے کہ اللہ کے لیے لڑ کر مر جاؤ۔ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page