حقیقتِ اسلام
Urdu book, p. 135
By Maulana Wahiduddin Khan
کے برعکس یہ فرمایا کہ اللہ کے لیے صبر کرو (ولربک فاصبر 92:07) قرآن میں پیغمبر اسلام کو رحمتہ للعالمین (21:107) کہا گیا ہے، قرآن میں کہیں بھی آپ کو سیف اللہ علی العالمین (دنیا والوں کے اوپر اللہ کی تلوار) نہیں فرمایا گیا۔ قرآن میں الصلح خیر (4:128) کی آیت نازل ہوئی ہے مگر قرآن میں الحرب خیر کے مضمون کی کوئی آیت موجود نہیں۔ قرآن میں ہے کہ : اِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ (39:10)۔ یعنی صبر کرنے والے بے حساب اجر پائیں گے۔ مگر قرآن میں کہیں یہ نہیں فرمایا کہ: اِنَّمَا يُوَفَّى الْمُقَاتِلُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ۔ یعنی ، جنگ کرنے والے بے حساب اجر پائیں گے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2966)۔ یعنی، دشمن سے جنگی مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو، تم اللہ سے عافیت مانگو۔ حدیث کے ذخیرہ میں آپ کا کوئی قول اس مضمون کا نہیں کہ: عَلَيْكُمْ أَنْ تُحِبُّوا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَاسْأَلُوا اللَّهَ الْقِتَالَ (تم کو چاہیے کہ دشمن سے مڈبھیڑ چاہو اور اللہ سے جنگ کی دعا کرو)۔ مکہ کی مہم میں ایک مسلمان نے کہا کہ: الْيَوْمُ يَوْمُ الملحمَةَ ۔ یعنی، آج گھمسان کا دن ہے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں، الْيَوْمُ يَوْمُ المَر حَمَة (تاریخ دمشق لابن عسا کر، جلد 23، صفحہ 454)۔ یعنی، آج رحمت کا دن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی کلچر رحمت کلچر ہے، وہ گن کلچر نہیں۔ اسلام انسانوں کے درمیان ہر حال میں معتدل اور پر امن تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے، خواہ اس کے لیے فریق ثانی کی یک طرفہ شرطوں پر صلح کر لینا پڑے، جیسا کہ حدیبیہ کے موقع پر کیا گیا۔ اہل ایمان کا کام نہ سر کاٹنا ہے اور نہ سر کٹوانا ۔ اہل ایمان کا کام یہ ہے کہ وہ دنیا میں خدا کے متواضع بندے بن کر رہیں ۔ وہ برے سلوک کے جواب میں اچھا سلوک کریں۔ وہ اعلیٰ اخلاق کے ذریعہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader