Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 136

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگوں کے دلوں میں معرفتِ حق کے چشمے جاری کریں۔ وہ خود بھی ربانی انسان بنیں اور دوسروں کو بھی ربانی انسان بنانے میں اپنی ساری طاقت لگا دیں۔ پیغمبر کا طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جو غزوات ہوئے ان میں سے ایک غزوۂ بنی المُصْطَلِق ہے۔ یہ غزوہ 5ھ میں پیش آیا۔ اس سے واپسی میں آپ مُریسیع کے چشمہ پر ٹھہرے۔ یہاں پانی کے سوال پر دو آدمیوں میں جھگڑا ہو گیا۔ ایک کا تعلق مہاجرین سے تھا اور دوسرے کا تعلق انصار سے۔ انصاری نے انصار کے گروہ کو پکارتے ہوئے کہا: یَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ۔ مہاجر نے مہاجرین کے گروہ کو پکارتے ہوئے کہا: یَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ ۔ یہ دو آدمیوں کے ذاتی جھگڑے کو دو گروہ کا قومی جھگڑا بنانا تھا۔ اسی کو عصبیت جاہلیت کہا جاتا ہے۔ اور اسلام میں عصبیت جاہلیت کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ مدینہ کا عبداللہ بن ابی جو پہلے سے مہاجرین کے خلاف بغض اپنے دل میں لیے ہوئے تھا، اس نے فوراً اس موقع کو استعمال کیا۔ اس نے کہا کہ اچھا، ان مہاجرین کے حوصلے اتنے بڑھ گئے ہیں۔ وہ مکہ سے ہمارے شہر میں آئے اور اب وہ ہمارے ہی اوپر غالب ہونا چاہتے ہیں۔ یہ تو وہی مثل ہے کہ اپنے کتے کو موٹا کر کہ وہ تجھ کو ہی کھا جائے۔ خدا کی قسم، ہم جب سفر سے واپس لوٹ کر مدینہ پہنچیں گے تو ہم میں سے جو طاقتور رہے وہ کمزور کو وہاں سے نکال باہر کرے گا۔ عبداللہ بن ابی اس طرح وطنی اور قبائلی عصبیت جگا کر مدینہ والوں کو مکہ والوں کے خلاف بھڑکانے لگا۔ حضرت عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ ہم میں سے کسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page