Urdu book · دینِ انسانیت

تواصی بالحق

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

اب یہ ظاہر ہے کہ حق اور ناحق کا اصل معیار قرآن وسنت ہے، نہ کہ کسی شخص کا اپنا خیال۔ اس لیے جب بھی کوئی شخص اس احساس میں مبتلا ہوگا تو وہ سب سے پہلے زبان یا قلم کے ذریعہ اس کا اظہار کرے گا تا کہ اس پر بحث شروع ہو۔ اس طرح بحث ومباحثہ کے بعد یہ ثابت ہوگا کہ کیا چیز درست ہے اور کیا چیز نادرست۔ اس طرح ثابت ہونے کے بعد صاحب اثر افراد کا یہ کام ہوگا کہ وہ اس کو حسب استطاعت عملاً نافذ کریں۔ گویا تواصی بالحق اور امر بالمعروف کی تعلیم کا تقاضا ہے کہ مسلم معاشرہ میں دائمی طور پر اظہار خیال کی آزادی موجود رہے۔ اس قسم کی آزادی کے بغیر یہ شرعی عمل سرے سے اپنی صحیح صورت میں جاری ہی نہیں رہے گا۔ اسلام چاہتا ہے کہ ہر شخص کو کسی روک ٹوک کے بغیر یہ آزادی حاصل ہو کہ وہ دوسروں کے بارے میں اپنی رائے دے سکے۔ اس عمل کے پیچھے اگر واقعتاً نیک جذبہ کارفرما ہوگا تو اس کا یہ عمل قابل انعام ہوگا۔ اور اگر اس نے کسی برے جذبے سے یہ کام کیا ہوگا تو وہ خدا کے یہاں قابل سزا قرار پائے گا۔ قرآن میں حضرت مسیح کی زبان سے یہ آیت ہے کہ : وَجَعَلَنِي مُبَارَكاً أَيْنَ مَا كُنْتُ (19:31)۔ مجاہد نے اس کی تفسیر میں کہا کہ : مُعَلِّماً لِلْخَيْرِ ( کتاب العلم لأبي خيثمة، اثر نمبر 30) ۔ یعنی خدا نے مجھ کو خیر کا معلم بنایا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الْمُؤْمِنُ مِرْآةُ الْمُؤْمِنِ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4918)۔ یعنی ایک مومن دوسرے مومن کے لیے آئینہ کی مانند ہے۔ جس طرح آدمی آئینہ کے سامنے کھڑا ہو تو آئینہ کسی کمی کی بیشی کے بغیر اس کا اصل چہرہ اسے دکھادے گا۔ اسی طرح مومن اپنے بھائی کو اس کی کمیوں سے آگاہ کرتا رہتا ہے، بغیر اس کے کہ وہ اپنے آپ کو اونچا سمجھے اور دوسرے کو نیچا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page