Urdu book · دینِ انسانیت

ایک آیت

Urdu book, p. 147

By Maulana Wahiduddin Khan

مشہور مفسر ضحاک (م 105 ھ) نے اس کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ یعنی جو شخص طلاق سنت میں اللہ سے ڈرے گا تو اللہ اس کے رجعت میں آسانی پیدا کر دے گا: أَيي مَنَ يَتَّقِهِ فِي طَلَاقِ السُّنَّةِ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا فِي الرَّجْعَة (تفسیر القرطبی ، جلد 18 ، صفحہ (165 زیادہ تر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی فوری غصہ کے تحت مستقبل کو سوچے بغیر اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے۔ اب اگر وہ شریعت کے مقرر طریقہ سے انحراف کر کے ایک ہی مجلس میں تین طلاق دیدے تو اس کے لیے سخت مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔ اس کے برعکس اگر آدمی اللہ سے ڈرے تو وہ غیر سنجیدہ فعل سے بچے گا۔ ایسا آدمی شریعت کے مقرر طریقہ پر پہلی بار صرف ایک طلاق دے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اگلے مہینہ تک جب اس کا غصہ اتر جائے گا اور وہ دور تک نتائج پر غور کرلے گا تو اس کو محسوس ہوگا کہ طلاق دے کر میں نے غلطی کی ہے۔ اس طرح اس کو موقع مل جائے گا کہ شریعت کے مطابق وہ دوبارہ رجوع کرلے۔ اس اصول کا تعلق پوری زندگی سے ہے۔ زندگی کے معاملات اگر فطرت کے مقرر راستہ پر چلتے رہیں تو زندگی میں کبھی بگاڑ نہیں آئے گا۔ زندگی میں بگاڑ صرف اس وقت آتا ہے جب کہ فطرت کی شاہراہ سے انحراف کیا جائے۔ تقویٰ اس بات کی ضمانت ہے کہ آدمی فطرت کی شاہراہ سے نہیں ہٹے گا۔ تقویٰ آدمی کو محتاط اور سنجیدہ بناتا ہے۔ اور جو آدمی محتاط اور سنجیدہ ہو جائے وہ کبھی جذباتی طور پر یا منفی سوچ کے تحت کوئی قدم نہیں اٹھائے گا۔ وہ ہر موقع پر اپنے کو تھام کر غور کرے گا۔ وہ جذبات کی راہ میں بہنے کے بجائے عقل کے فیصلہ کے تحت کام کرے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ غیر ضروری مشکلات سے بچ جائے گا اور ٹیسر والے راستہ کو پا کر اس پر چلتا رہے گا، یہاں تک کہ آخری منزل پر پہنچ جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page