غلط فہمی
Urdu book, p. 148
By Maulana Wahiduddin Khan
غلط فہمی عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللهِ صلی الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، فَتَحَسَّسْتُهُ، فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ أَوْ سَاجِدٌ يَقُولُ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، فَقَالَتْ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنِّي لَفِي شَأْنٍ، وَإِنَّكَ لَفِي آخَر (مسند احمد، حديث نمبر 25178؛ صحيح مسلم، حديث نمبر 485؛ سنن النسائى، حديث نمبر 1131)۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک رات کو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر کے اندر نہیں پایا۔ انھوں نے گمان کیا کہ آپ اپنی کسی بیوی کے پاس چلے گیے ہیں۔ انھوں نے آپ کو تلاش کیا تو انھوں نے پایا کہ آپ مسجد میں رکوع (یا سجدہ) کی حالت میں ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ اے اللہ، تو پاک ہے اور ساری تعریف تیرے ہی لیے ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے باپ اور ماں آپ پر قربان ہوں، میں کسی اور حال میں ہوں اور آپ کسی دوسرے حال میں ہیں۔ حضرت عائشہ نے آپ کو نہ پا کر گمان کیا کہ آپ اپنی کسی بیوی کے گھر گئے ہیں، حالاں کہ آپ خدا کے گھر گیے تھے۔ انھوں نے سمجھا کہ آپ کو کسی بیوی کی یاد آگئی، حالاں کہ آپ کو خدائے ذوالجلال کی یاد آئی تھی۔ اسی طرح انسان ظاہر حالات کے اعتبار سے دوسرے شخص کے بارے میں ایک گمان کر لیتا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق وہ اپنے آپ کو درست سمجھتا ہے۔ مگر تحقیق کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ اس کا خیال محض ذاتی گمان کی بنیاد پر تھا، حقیقت واقعہ سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا۔ غلط فہمی ایک ایسی چیز ہے جس میں صحابی کے درجہ کا ایک انسان بھی مبتلا ہو سکتا ہے۔ پھر عام انسان کے لیے تو اس کا امکان اور بھی زیادہ ہے۔ اس لیے ہر انسان پر یہ لازم ہے کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader