Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 149

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر کسی کے بارے میں اس کو غلط نہی ہو جائے تو وہ اس کی تحقیق کرے۔ تحقیق کے بغیر ہرگز اپنی رائے پر اعتماد نہ کرے۔ تحقیق نہ کرنے والا بلاشبہ گنہگار ہے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں ایسے آدمی کا کوئی عذر ہرگز سنا نہ جائے گا۔ وہ اپنے اس جرم میں پکڑا جائے گا کہ جب تم کو معاملہ کا پورا علم حاصل نہ تھا تو تم نے کسی بندۂ خدا کے بارے میں ایک بُرا خیال کیسے قائم کر لیا۔ مطلوبِ عمل عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم رَجُلٌ، فَرَأَى أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ جَلَدِهِ وَنَشَاطِهِ مَا أَعْجَبَهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ كَانَ هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: إِنْ كَانَ خَرَجَ يَسْعَى عَلَى وَلَدِهِ صِغَاراً فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَإِنْ خَرَجَ يَسْعَى عَلَى أَبَوَيْنِ شَيْخَيْنِ كَبِيرَيْنِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَإِنْ كَانَ يَسْعَى عَلَى نَفْسِهِ يَعُفُّهَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَإِنْ كَانَ خَرَجَ رِيَاءً وَتَفَاخُراً فَهُوَ فِي سَبِيلِ الشَّيْطَانِ (المجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 6835)۔ یعنی، کعب بن عُجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا۔ آپ کے اصحاب نے اس کی محنت کو اور اس کی سرگرمی کو دیکھا۔ انھوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کاش اس کی یہ محنت اور سرگرمی اللہ کے راستہ میں ہوتی۔ آپ نے فرمایا کہ اگر وہ اپنے چھوٹے بچوں کے لیے دوڑ دھوپ کر رہا ہے تو اس کا عمل اللہ کے راستہ میں ہے۔ اور اگر وہ اپنے ماں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page