Urdu book · دینِ انسانیت

تواصی بالحق

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی بات دوسری حدیث میں اس طرح ہے کہ : فَطُوبَى لِعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لِلْخَيْرِ، مِغْلَاقًا لِلشَّرِّ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 238)۔ یعنی بابرکت ہے وہ بندہ جس کو اللہ نے خیر کا دروازہ کھولنے والا اور شر کا دروازہ بند کرنے والا بنایا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی سچا خدا پرست ہو وہ خیر اور شر کے بارے میں انتہائی حساس ہوگا۔ اس کی یہ حساسیت اس کو مجبور کرے گی کہ جب بھی وہ کوئی خلاف حق بات دیکھے تو فوراً اس کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرے۔ تاہم یہ بات یک طرفہ نہیں ہے۔ خدا پرستی جس طرح آدمی کے اندر اظہارِ حق کا جذبہ ابھارتی ہے، اسی طرح وہ قبولِ حق کا جذبہ بھی آخری حد تک اس کے اندر پیدا کر دیتی ہے ۔ ایسا آدمی جس طرح دوسروں کے خلاف تنقید یا اظہار رائے کرتا ہے، وہ خود بھی ہر وقت اس کے لیے تیار رہتا ہے کہ جب بھی اس کے سامنے امر حق پیش کیا جائے وہ فوراً اس کو قبول کرلے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کے اوپر تنقید کا حق صرف اسی شخص کو ہے جو اسی شدت کے ساتھ خود اپنا بھی احتساب کرتا ہو۔ دوسروں کو نصیحت کرنا اسی کے لیے جائز ہے جو قلب و ذہن کی پوری آمادگی کے ساتھ اس کے لیے تیار رہے کہ جب بھی اس کے سامنے حق پیش کیا جائے گا تو انانیت یا وقار کا سوال اس کے لیے حق کی قبولیت میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔ وہ کھلے دل کے ساتھ فوراً اس کو قبول کرلے گا۔ تواصی بالحق یا امر بالمعروف کا کام اسی وقت مفید ہوسکتا ہے جب کہ وہ دو طرفہ ہو۔ اگر وہ یک طرفہ ہو، ایک سنانے والا ہو اور دوسرا صرف سننے والا، تو ایسے ماحول میں کبھی وہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا جو تواصی بالحق اور امر بالمعروف کے نظام سے مطلوب ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page