دینِ انسانیت
Urdu book, p. 150
By Maulana Wahiduddin Khan
باپ کے لیے دوڑ دھوپ کر رہا ہے تو اس کا عمل اللہ کے راستے میں ہے۔ اور اگر وہ اپنی با عزت روزی کے لیے دوڑ دھوپ کر رہا ہے تو اس کا یہ عمل بھی اللہ کے راستے میں ہے۔ اس کے برعکس ، اگر اس کی دوڑ دھوپ دکھادے کے لیے اور فخر کے لیے ہو تو اس کا سارا عمل شیطان کے راستے میں ہے۔ ’’اللہ کے راستے میں عمل‘‘ کسی خاص شکل والے عمل کا نام نہیں، وہ نیت یا قلبی محرک کا نام ہے۔ جو شخص خدائی نیت کے تحت عمل کرے ، اس کا عمل خدا کے راستے میں ہے۔ جو شخص کسی اور نیت کے تحت عمل کرے، تو اس کا عمل اسی راستے میں ہے جس کی اس نے نیت کی تھی۔ ایک آدمی کے یہاں چھوٹے بچے ہیں۔ اس نے سوچا کہ یہ بچے میرے لیے خدا کی ذمہ داری کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ سوچ کر وہ ان کی ضروریات فراہم کرتا ہے تو وہ خدا کی راہ میں عمل کرتا ہے۔ ایک آدمی کے یہاں بوڑھے والدین ہیں۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ والدین کی خدمت میرے اوپر خدائی فریضہ ہے۔ اس احساس کے تحت وہ اپنے والدین کی خدمت کرتا ہے تو وہ خدا کی راہ میں عمل کر رہا ہے۔ ایک شخص کے سامنے اپنے فطری تقاضے ہیں۔ وہ شریعت الہی کے دائرہ میں اپنی فطری حاجتوں کو پورا کرنے کے لیے سرگرم ہوتا ہے تو وہ خدا کی راہ میں عمل کرتا ہے۔ کلام کی شرط عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ (صحيح البخاري، حديث نمبر 6018 ؛ صحيح مسلم، حديث نمبر 47)۔ یعنی، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader