Urdu book · دینِ انسانیت

کلام کی شرط

Urdu book, p. 151

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ وہ بہتر بات بولے ورنہ چپ رہے۔ جو شخص اللہ کو اس کے عظمت و جلال کے ساتھ مانے، جس کو یہ یقین ہو کہ قیامت کے دن اللہ اس کے ہر بول پر اس سے باز پرس کرنے والا ہے، وہ اپنی زبان کے بارے میں آخری حد تک محتاط ہو جاتا ہے۔ وہ بولنے سے پہلے سوچتا ہے۔ وہ خدا کے یہاں جائزہ لیے جانے سے پہلے خود اپنا جائزہ لینے لگتا ہے۔ یہ مزاج اس کو اپنا نگراں آپ بنا دیتا ہے۔ اس کی زبان پر خاموشی کا تالا لگ جاتا ہے۔ وہ صرف اس وقت بولتا ہے جب کہ بولنا فی الواقع ضروری ہو گیا ہو، اور جہاں حقیقی ضرورت نہ ہو وہاں وہ چپ رہنا پسند کرتا ہے۔ جو شخص اپنی نفسیات کے اعتبار سے ایسا بن جائے، اس کی زبان جب کھلے گی تو بھلی بات ہی کے لیے کھلے گی۔ لغو یا بے ہودہ بات کے لیے اس کی زبان اس طرح بند ہو جائے گی جیسے اس کے پاس بولنے کے لیے الفاظ ہی نہیں۔ بہتر بات سے مراد وہ بات ہے جس سے کسی خدائی سچائی کا اعلان ہوتا ہو۔ جس میں کسی مظلوم کی حمایت کی گئی ہو۔ جس سے انسانی بھلائی قائم کرنا مقصود ہو۔ جو خیر خواہی اور اصلاح کے جذبہ کے تحت ظاہر ہوئی ہو۔ اس کے برعکس غیر بہتر بات وہ ہے جس کا مقصد اپنے آپ کو نمایاں کرنا ہو۔ جس کے ذریعہ ظالم کی تائید چاہی گئی ہو۔ جو بد خواہی اور ظلم کے جذبہ کے تحت نکلی ہو۔ جس کا نتیجہ یہ ہو کہ سویا ہوا فتنہ جاگ اٹھے اور خدا کی زمین میں فساد پھیل جائے۔ اللہ پر اور آخرت پر ایمان آدمی کو سنجیدہ اور ذمہ دار بناتا ہے۔ اور جو شخص حقیقی معنوں میں سنجیدہ اور ذمہ دار ہو جائے اس کا کلام ویسا ہی ہو جائے گا جس کا حدیث میں ذکر ہوا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page