بلندکرداری
Urdu book, p. 152
By Maulana Wahiduddin Khan
بلند کرداری پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں کے لیے اسوہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ کا اخلاق تمام امت کے لیے نمونہ ہے۔ آپ کا اخلاق کیا تھا، اس کی بابت قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ بیشک تم ایک اعلیٰ اخلاق پر ہو: وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (68:4)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام امت کو اسی بلند اخلاقی کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: لَا تَكُونُوا إِمَّعَةً، تَقُولُونَ: إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنْنَا، وَإِنْ ظَلَمُوا ظَلَمْنَا، وَلَكِنْ وَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ، إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا، وَإِنْ أَسَاءُوا فَلَا تَظْلِمُوا۔ (سنن الترمذی ، حدیث نمبر 2007) تم لوگ امّعہ نہ بنو کہ یہ کہنے لگو کہ اگر لوگ ہمارے ساتھ اچھا کریں تو ہم بھی اچھا کریں گے اور لوگ ہمارے اوپر ظلم کریں تو ہم بھی ظلم کریں گے۔ آپ کو اس کے لیے آمادہ کرو کہ لوگ اچھا سلوک کریں تو تم بھی اچھا سلوک کرو اور اگر وہ برا سلوک کریں تو تم ان کے ساتھ ظلم نہ کرو۔ اچھے کے ساتھ اچھا اور برے کے ساتھ برا۔ یہ لین دین والا اخلاق ہے۔ اس قسم کے اخلاق کی اللہ کے نزدیک کوئی وقعت نہیں۔ جو آدمی اپنے عمل کی قیمت دنیا ہی میں لے لے اس نے گویا دنیا ہی میں اپنا معاملہ برابر کرلیا۔ اس کے عمل کی آخرت میں کیا قیمت ہوسکتی ہے۔ حقیقی اخلاق وہ ہے جو اعلیٰ اخلاق ہو، جو اصول کی پابندی میں برتا گیا ہو نہ کہ مفاد اور مصلحت کی پابندی میں۔ اعلیٰ اخلاق سے مراد وہ اخلاق ہے جب کہ آدمی دوسروں کے رویہ سے بلند ہو کر عمل کرے۔ اس کا طریقہ یہ نہ ہو کہ برائی کرنے والوں کے ساتھ برائی اور بھلائی کرنے والوں کے ساتھ بھلائی۔ بلکہ اخلاق اس کے لیے ناقابل تغییر اصول کی حیثیت رکھتا ہو۔ وہ دوسروں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader