دینِ انسانیت
Urdu book, p. 153
By Maulana Wahiduddin Khan
کے رویہ سے بے پروا ہو کر خود اپنے اصول کے تحت اپنی روش کا تعین کرے۔ وہ ہر ایک کے ساتھ بھلائی کرے، خواہ دوسرے لوگ اس کے ساتھ برا سلوک ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔ یہی سچا اسلامی اخلاق ہے۔ اس قسم کا اخلاق ثابت کرتا ہے کہ آپ ایک با اصول انسان ہیں۔ حالات آپ کے کردار کا تعین نہیں کرتے بلکہ خود آپ کا سوچا سمجھا اصول آپ کے کردار کا تعین کرتا ہے۔ قرآنی اصول قرآن میں ازدواجی زندگی کے احکام کے ذیل میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم لوگ اپنی بیویوں کے ساتھ خوش اسلوبی کے ساتھ زندگی گزارو۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند نہ ہو مگر اللہ نے اس میں تمہارے لیے بہت بڑی بھلائی رکھ دی ہو وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْراً كَثِيراً (19: 4)۔ اس قرآنی تعلیم کا تعلق صرف میاں اور بیوی سے نہیں ہے۔ وہ تمام انسانی تعلقات کے لیے عام ہے۔ خدا کی اس دنیا میں کامیاب اجتماعی زندگی گزارنے کا واحد اہم اصول یہ ہے کہ ہر عورت اور مرد شعوری طور پر اس کو یاد رکھیں کہ کسی کی کوئی روش اگر ان کی پسند کے خلاف ہے تو خود اسی کے اندر کوئی اور صفت ہوگی جو ان کی پسند کے مطابق اور مفید ہوگی۔ اس لیے ہر ایک کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ متعلق مرد یا عورت کی ناپسندیدہ صفت کو نظر انداز کر کے اس کی پسندیدہ صفت کی بنیاد پر اس کو اپنالے۔ اصل یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی کامل نہیں۔ ہر ایک کے اندر کوئی نہ کوئی کمی پیدائشی طور پر موجود ہوتی ہے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ جس مرد یا عورت کا ہم تجربہ کر رہے ہوتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader