دینِ انسانیت
Urdu book, p. 154
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں، اس کی کمی ہمارے علم میں آجاتی ہے۔ اور جس مرد یا عورت کا ہمیں عملی تجربہ نہیں ہوا اس کی کمی ہمارے علم میں نہیں آتی۔ اس لیے ہم غیر شعوری طور پر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ باقی لوگ تو اچھے ہیں، صرف یہ شخص برا ہے۔ حالاں کہ ایک کو چھوڑ کر جب ہم دوسرے سے معاملہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دوسرا آدمی بھی ویسا ہی تھا جیسا کہ پہلا آدمی۔ اس لیے یہ ذہن درست نہیں کہ اس کو چھوڑ کر فلاں کو پکڑو۔ اس کے بجائے صحیح بات یہ ہے کہ نباہ کا ذہن پیدا کیا جائے۔ کامل کی تلاش آدمی کو کہیں نہیں پہنچاتی۔ اور نباہ کی روش آدمی کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ ہر ایک کے ساتھ زندگی گزارے، وہ ہر ایک کے ساتھ مل کر اپنے لیے کامیاب زندگی کی تعمیر کر سکے۔ بے حساب اجر قُلْ يَا عِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هِذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَأَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ (39:10)۔ یعنی، کہو کہ اے بندو جو ایمان لائے ہو، اپنے رب سے ڈرو۔ جو لوگ اس دنیا میں نیکی کریں گے ان کے لیے نیک صلہ ہے۔ اور اللہ کی زمین وسیع ہے۔ بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔ یہ ایک انتہائی غیر معمولی بات ہے کہ کسی عمل پر بے حساب اجر دینے کا اعلان کیا جائے۔ قرآن میں اس قسم کا غیر معمولی اعلان صرف ایک عمل کے لیے کیا گیا ہے، اور وہ صبر کا عمل ہے۔ صبر کی اصل حبس ہے، یعنی روکنا۔ عربی میں کہا جاتا ہے: صبرت عن کذا (میں نے اپنے نفس کو فلاں چیز سے روک دیا)۔ یا صبرت عما احب (جس چیز کو میں پسند کرتا ہوں اس سے میں نے اپنے آپ کو روکا)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader