Urdu book · دینِ انسانیت

اختلاف میں رحمت

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

اختلاف میں رحمت الجامع الصغیر میں یہ حدیث آئی ہے کہ میری امت کا اختلاف رحمت ہے : اختلافُ أُمَّتِي رَحْمَةٌ (الجامع الصغیر و زیادته، حدیث نمبر 1243)۔ کچھ علماء نے اس حدیث کی صحت پر شک کیا ہے۔ مگر اس سے قطع نظر، یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ قرآن اور حدیث کا پورا ذخیرہ جو ہمارے پاس موجود ہے، اس میں خود علمائے امت نے بے شمار اختلافات کیے ہیں۔ قرآن کی تفسیر میں اختلافات سے بھری ہوئی ہیں، اسی طرح احادیث کی شرحوں کا یہ حال ہے کہ شاید کوئی بھی حدیث ایسی نہیں جس کی تشریح میں اختلاف موجود نہ ہو۔ سوال یہ ہے کہ یہ اختلاف کیوں۔ اور یہ کہ یہ اختلاف رحمت تھا یا زحمت۔ قرآن ایسی ریاضیاتی زبان میں اتر سکتا تھا کہ اس کی تفسیر و تاویل میں کسی قسم کے اختلاف کی سرے سے گنجائش ہی نہ ہو۔ اسی طرح حدیثوں میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے الفاظ اختیار کر سکتے تھے جو دو اور دو چار کی مانند ہوں، اور اس کا امکان ہی نہ ہو کہ ان کی شرح میں کوئی شخص اختلاف کا پہلو نکالے۔ اصل یہ ہے کہ اختلاف کوئی غیر مطلوب چیز نہیں، بلکہ وہ عین مطلوب ہے۔ اسی اختلاف کی بنا پر یہ ممکن ہوا کہ لوگ قرآن وحدیث میں زیادہ سے زیادہ غور وفکر کریں۔ اسی بنا پر یہ ممکن ہوا کہ اسلام ان کے لیے کوئی جامد چیز نہ ہو بلکہ وہ ان کے لیے خود دریافت کردہ حقیقت بن جائے۔ اسی بنا پر یہ ممکن ہوا کہ لوگوں کے اندر ذہنی سرگرمیاں جاری ہوں اور آخر کار ہر ایک مومن کو تخلیقی فکر کا حامل انسان بنا دیں۔ الزام تراشی اور عیب جوئی ایک جرم ہے۔ بلکہ وہ کمینہ پن ہے جو بلا شبہ سب سے بری اخلاقی صفت ہے۔ مگر علمی اختلاف جو سنجیدہ غور وفکر سے ابھرتا ہے، وہ تو ایک نعمت ہے اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page