Urdu book · دینِ انسانیت

اعتدال کا طریقہ

Urdu book, p. 160

By Maulana Wahiduddin Khan

چھوڑ دو کہ تم ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جاؤ (17:29)۔ اسی بات کو دوسری جگہ اس طرح فرمایا کہ اور وہ لوگ کہ جب وہ خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں ، اور ان کا خرچ اس کے درمیان اعتدال پر ہوتا ہے (25:67)۔ اس آیت کے مطابق ، انفاقِ اوسط یہ ہے کہ نہ بہت زیادہ نہ بہت کم۔ بلکہ درمیانی مقدار جس کو آسانی کے ساتھ آدمی اختیار کر سکا___ اسی طرح نفل روزے، نفل نمازوں وغیرہ میں بھی یہ مطلوب ہے کہ آدمی بیچ کا راستہ اختیار کرے جس کو وہ دیر تک نباہ سکتا ہو۔ اس معتدل انداز کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ ہر معاملے میں آدمی کو افراط اور تفریط سے بچنا ہے۔ ہر معاملے میں دو انتہاؤں کے درمیان بین بین والی صورت اختیار کرنا ہے۔ یہی طریقہ دینی مزاج کے مطابق ہے اور اسی میں کامیابی ہے۔ یہ درمیانی طریقہ دوسرے لفظوں میں غیر جذباتی طریقہ ہے۔ کوئی صورتِ حال پیش آنے پر جب آدمی بے قابو ہو جائے تو وہ اعتدال پر نہیں رہتا ، بلکہ ایک انتہا یا دوسری انتہا کی طرف چلا جاتا ہے۔ لیکن جب آدمی اپنے جذبات کو قابو میں رکھے تو وہ سوچ کر اپنی کارروائی کا رخ متعین کرے گا۔ اور سوچ سمجھ کر کیا ہوا عمل معتدل عمل ہی ہوتا ہے۔ غیر معتدل آدمی دوستی میں بھی حد سے گزر جائے گا اور دشمنی میں بھی حد سے باہر چلا جائے گا۔ وہ کبھی ضرورت سے زیادہ پر امید ہو جائے گا اور کبھی ضرورت سے زیادہ مایوس۔ وہ غیر ضروری طور پر کسی کو بہت اچھا سمجھ لے گا اور کسی کو بہت زیادہ برا___ لیکن قدرت کا فیصلہ ہے کہ اس دنیا میں معتدل آدمی کامیاب ہوا اور غیر معتدل آدمی ہمیشہ نا کام۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page