Urdu book · دینِ انسانیت

بہتر انسان

Urdu book, p. 161

By Maulana Wahiduddin Khan

بہترین انسان عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی الله عليه وسلم وَقَفَ عَلَى نَاسِ جُلُوسٍ، فَقَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِكُمْ مِنْ شَرِّكُمُ؟ قَالَ: فَسَكَتُوا، فَقَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنَا بِخَيْرِنَا مِنْ شَرِّنَا، قَالَ: خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ۔ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2263)۔ ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی ایک مجلس کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا: کیا میں تم کو تمہارے اندر اچھے اور برے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں۔ راوی کہتے ہیں کہ لوگ چپ رہے۔ تب آپ نے تین بار یہی بات کہی۔ پھر ایک شخص نے کہا کہ ہاں اے خدا کے رسول، آپ ہم کو ہمارے اچھے اور برے کے بارے میں بتائیے۔ آپ نے فرمایا: تم میں اچھا وہ شخص ہے جس سے اس کے خیر کی امید کی جائے اور جس کے شر سے لوگ سلامت ہوں۔ یہ حدیث نہایت واضح طور پر بتاتی ہے کہ اچھا آدمی کون ہے اور برا آدمی کون ہے۔ اچھا آدمی وہ ہے جس کے بارے میں پیشگی طور پر یقین کیا جاسکے کہ جب بھی اس سے کسی کا سابقہ پیش آئے گا تو اس کو اس آدمی سے خیر ہی کا تحفہ ملے گا۔ اس سے جن لوگوں کو بھی تجربہ ہو، گا درست قول اور نیک عمل ہی کا تجربہ ہوگا۔ کوئی بھی چیز اس کو اس پر آمادہ نہیں کرے گی کہ وہ لوگوں کے ساتھ خیر کے بجائے شر کا معاملہ کرنے لگے۔ ایسے آدمی کے اندر بلاشبہ شر بھی چھپا ہوتا ہے۔ کیوں کہ اس کو بھی دوسروں کی طرح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page