Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 162

By Maulana Wahiduddin Khan

خلاف مزاج بات ناپسند ہوتی ہے۔ اشتعال انگیز بات پر اس کو بھی غصہ آتا ہے۔ اس کے اندر بھی نفرت اور عداوت کا طوفان جاگتا ہے۔ اس کو بھی نقصان اور زیادتی کے مواقع پر تکلیف ہوتی ہے۔ مگر ان سب کے باوجود وہ اپنی اصولی حیثیت پر قائم رہتا ہے۔ وہ نفسیاتی جھٹکوں کو اپنے اوپر سہتا ہے۔ وہ خود کڑوا گھونٹ پی کر دوسروں کو میٹھا گھونٹ پلاتا ہے۔ وہ زیادتی کے واقعات کو اللہ کے خانہ میں ڈال دیتا ہے تاکہ اس کا ذہنی سکون بھنگ نہ ہو، وہ کامل یکسوئی کے ساتھ مقصدِ اعلیٰ کے لیے اپنی سرگرمی کو جاری رکھ سکے۔ ایک اسلامی حکم قرآن میں اہلِ ایمان کو حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ــ اور کسی قوم کی دشمنی کہ اس نے تم کو مسجدِ حرام سے روکا، تم کو اس پر نہ ابھارے کہ تم زیادتی کرنے لگو۔ تم نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔ اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے (5:2)۔ 6ھ میں مکہ کے مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے اصحاب کو اس سے روک دیا تھا کہ وہ مکہ میں داخل ہوں اور عمرہ کی عبادت ادا کریں۔ اس موقع پر انھوں نے سخت قسم کی اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کیا اور مسلمانوں کے اوپر پے در پے یاد تیاں کیں۔ اس بنا پر مسلمانوں میں مشرکین کے خلاف غصہ تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ وہ بھی مشرک قبائل کے قافلوں کوروکیں اور ان کے خلاف انتقامی کارروائی کریں۔ مذکورہ آیت میں انھیں اس سے روک دیا گیا۔ اور حکم دیا گیا کہ دشمنی میں بے قابو نہ ہو اور ہر حال میں امن اور اعتدال کی روش پر قائم رہو۔ اس ذیل میں مزید یہ حکم دیا گیا کہ ”نیکی اور تقویٰ پر آپس میں تعاون کرو، گناہ اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page