دینِ انسانیت
Urdu book, p. 163
By Maulana Wahiduddin Khan
زیادتی پر ایک دوسرے کا تعاون نہ کرو‘‘ (5:2) اس موقع پر اس حکم کا مطلب کیا ہے، اس کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا شبیر احمد عثمانی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: ”اگر کوئی شخص بالفرض جوشِ انتقام میں زیادتی کر بیٹھے تو اس کے روکنے کی تدبیر یہ ہے کہ جماعتِ اسلام اس کے ظلم وعدوان کی اعانت نہ کرے بلکہ سب مل کر نیکی اور پرہیزگاری کا مظاہرہ کریں۔ اور اشخاص کی زیادتیوں اور بے اعتدالیوں کو روکیں (تفسیر عثمانی، صفحہ 137) کسی گروہ میں ایک ایک آدمی سنجیدہ نہیں ہوتا۔ کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو جذباتی ہوتے ہیں اور وہ فریقِ مخالف کی اشتعال انگیزی پر بھڑک اٹھیں۔ ایسے موقع پر جماعت کے بقیہ، لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے جذباتی لوگوں کو روکیں، وہ چپ رہنے کے بجائے بولیں، وہ ان کی حمایت کرنے کے بجائے ان کی مذمت کریں۔ اگر بقیہ لوگ ایسا نہ کریں گے تو قرآن کے الفاظ میں، وہ تعاون علی الاثم والعدوان کے مجرم قرار پائیں گے۔ شکایت کے باوجود فتح مکہ کا واقعہ رمضان 8ھ میں پیش آیا۔ اس کے جلد ہی بعد شوال 8ھ میں غزوۂ حنین ہوا۔ مکہ کی طرف اقدام سے کچھ ہی پہلے خالد بن الولید نے مدینہ آ کر اسلام قبول کیا تھا۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں مہموں میں حضرت خالد کو مسلم لشکر کا سردار بنا دیا۔ یہ بات انصار کے اوپر شاق تھی۔ کیوں کہ انصار کے لوگ بہت پہلے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ایمان لا کر جاں نثاری کر رہے تھے۔ جب کہ حضرت خالد ابھی نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ آج کل کی زبان میں یہ گویا سینئر اور جونیئر کو ترجیح دینے کا معاملہ تھا۔ تاہم اس شکایت کے باوجود تمام انصار رسول اللہ کے ساتھ رہے، انھوں نے آپ کے ہر حکم کی اطاعت کی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader