Urdu book · دینِ انسانیت

دینِ انسانیت

Urdu book, p. 164

By Maulana Wahiduddin Khan

خاتمۂ جنگ کے بعد عرب رواج کے مطابق شعرا نے اس کے بارے میں اشعار کہے۔ انصار کے ایک شاعر عباس بن مرداس نے بھی اس موقع پر کچھ اشعار کہے۔ اس میں ایک طرف اس شکایت کا بھی تذکرہ تھا کہ آپ نے ہمارے اوپر خالد کو ترجیح دی اور ان کو قوم کے اوپر امیر بنا دیا— فِیَانِ تَکُ قَدِ اَمَرْتَ فِی القَومِ خَالداً مگر اسی کے ساتھ شاعر نے کہا: وقال نبیّ المومنین تقدموا فحبّ الینا أن نکون المُقَدّما اور مسلمانوں کے نبی نے کہا کہ تم لوگ آگے بڑھو، تو ہمارے لیے یہ محبوب بن گیا کہ ہم آگے بڑھ کر مقابلہ کرنے والے ہوں (سیرت ابن ہشام، جلد 4، صفحہ 111)۔ انصار کو اگرچہ ظاہر حالات کے مطابق شکایت تھی۔ مگر اس شکایت کو انھوں نے اپنے عمل پر اثر انداز ہونے نہیں دیا۔ شکایت کے باوجود وہ تمام مسلمانوں کے ساتھ پوری طرح جڑے رہے۔ شکایت کے باوجود وہ اسلام کے محاذ پر متحدہ طاقت بن کر کھڑے ہو گئے۔ موجودہ دنیا میں یہ ناممکن ہے کہ باہم شکایتیں پیدا نہ ہوں۔ صحیح یا غلط اسباب کے تحت بہر حال ایک کو دوسرے سے شکایت پیدا ہوتی ہے، حتیٰ کہ رسول اور اصحاب رسول سے بھی۔ مگر مومن شکایتوں سے بلند ہوتا ہے، وہ شکایتوں سے اوپر اٹھ کر معاملہ کرتا ہے۔ اسی لیے مومنین کی جماعت میں کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ شکایت اور اختلاف ان کے اتحاد کو درہم برہم کر دے۔ عبادت اور اخلاق حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4811) یعنی، وہ آدمی جو انسان کا شکر نہ کرے وہ اللہ کا شکر بھی نہیں کر سکتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں الہیات اور انسانیات دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔ اسلام میں الہی عبادت کا تعلق بھی انسانی اخلاق سے جڑا ہوا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page